بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی ایک تباہ کن معمول بن چکی ہے،ڈاکٹر شلی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ وومن فورم کے سربراہ ڈاکٹر شلی بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں اضافہ بلا روک ٹوک جاری ہے، جس کے نتیجے میں دو اور بلوچ نوجوان اس گھناؤنے جرم کا شکار ہوچکے ہیں، اس کے نتیجے میں دکھ، غم اور غیر یقینی کی کیفیت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر یونیورسٹی لیاری میں میڈیا سائنس کے طالب علم یاسر بلوچ کو 25 فروری کو سیکیورٹی فورسز نے اس وقت اغوا کیا جب وہ گلشن اقبال کراچی سے گھر (ملیر) جارہے تھے۔

https://twitter.com/ShaleeBaloch/status/1895020744125694417

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب گریشاگ (خضدار) کے رہائشی صابر علی کو کراچی کے علاقے لیاری سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا جہاں وہ زیر علاج تھا۔

ڈاکٹر شلی بلوچ نے کہا کہ ان کے اہل خانہ کو ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی ان کی قسمت کے بارے میں کوئی سراغ ہے۔

انہو ں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی ایک تباہ کن معمول بن چکی ہے، ایک ایسا معمول جو زندگیوں کو تباہ کر دیتا ہے، اور ایک نہ ختم ہونے والا ڈراؤنا خواب جو خاندانوں کو پریشان کرتا ہے۔

بلوچ وومن فورم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے جبری گمشدگیوں کے غیر آئینی رواج کو ختم کرنے سے گریزاں ہیں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کو ریاستی اداروں پر بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کرنے پر زور دینے کی ضرورت ہے۔

Share This Article