پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار خضدار کے رہائشی سلمان بلوچ کی ہمشیرہ سعدیہ بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جبری گمشدہ افراد کا کمیشن نہ قانونی کارروائی کر رہا ہے اور نہ ہی سلمان بلوچ کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات دے رہا ہے بلکہ بغیر کسی پیش رفت کے کیس بند کر رہا ہے جو ہمارے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
اگر عدالتیں، کمیشن اور قانون ہمیں انصاف نہ دے سکے اور میرے بھائی کا کیس بغیر بازیابی کے ختم کر دیا جائے تو ہم کہاں جائیں اور کس سے انصاف طلب کریں؟
اگر میرے بھائی کو کچھ بھی نقصان پہنچا تو اسکی ذمہ دار یہ لوگ خود ہونگے جنہوں نے آج کمیشن میں مجھے صاف چیلنج کیا کہ آپ کا بھائی ہمارے پاس ہے لیکن ہم اس کو بازیاب نہیں کرینگے ، اور یہ کیس کلوز کر رہے ہیں کیونکہ کہ یہ جھوٹا کیس ہے سلمان لاپتہ نہیں ہے۔
واضع رہے کہ سلمان بلوچ کو 13 نومبر 2022 کو کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔