بلوچستان کے علاقے مستونگ میں جبری لاپتہ ظہور سمالانی کی بازیابی کیلئے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دو دنوں سے جاری دھرنا ان کی بازیابی کے بعدختم کردیا گیا۔
احتجاجی دھرنا کے قیادت سے اسسٹنٹ کمشنر مستونگ محمداکرم حریفال نے کامیاب مزاکرات کئے اور لاپتہ ظہور سمالانی کی بازیابی کے بعد قومی شاہراہ کو ٹریفک کیلئے مکمل طور پر کھول دیا گیا۔
واضع رہے کہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدہ ہونے والے ظہور سمالانی کی بازیابی کیلئے لواحقین نے دو دن قبل قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر بلاک کردیاتھا ۔
پہلے دن نواب ہوٹل مستونگ کے مقام پر خواتین و بچوں نے دھرنا دیکر دھرنا دے کر شاہراہ کو مکمل بند کیا تھا جس سے ٹریفک معطل رہی ۔
جبکہ دوسرے دن لواحقین نے اپنے احتجاج کو مزید وسعت دے کر تفتان ٹو کوئٹہ ٹو کراچی قومی شاہراہ لکپاس کے مقام پر ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کر دیا تھا۔
تین مقامات پر دھرنے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اورمسافر بھوک و پیاس کے پھنس کر رہ گئے تھے۔