بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار ظہور سمالانی کی عدم بازیابی کے خلاف لواحقین نے قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر بلاک کردیاہے ۔جبکہ آواران سے ایک تشدد زدہ نعش برآمد ہوئی ہے۔
نواب ہوٹل مستونگ کے مقام پر خواتین بچوں کے دھرنے سے شاہراہ مکمل بند ہے اور ٹریفک معطل ہے۔
شاہراہ کی بندش سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اورمسافر پھنسے ہوئے ہیں۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ سمالانی قومی تحریک کے مرکزی چیئرمین میر احمد چلتن وال سمالانی دھرنے کی قیادت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب آوران سے ایک نعش برآمد ہوئی ہے۔
نعش کی شناخت نورجان ولد خان محمد سکنہ اورناچ کے نام سے ہوگئی ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ نعش پر تشدد کے نشانات ہیں۔
لیویز نے نعش کوڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال آواران منتقل کردیا ہے۔