بی ایل ایف کی ماہِ اپریل کی آپریشنل رپورٹ جاری : 30 کارروائیوں میں 39 فوجی اہلکار ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) نے اپنی کارروائیوں کی ماہِ اپریل کی آپریشنل رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق 30 کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے 39 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، جھاؤ میں فوجی قافلے پر مہلک حملہ کیا گیا اور اسلحات و دیگر عسکری ساز و سامان ضبط کئے گئے۔

بی ایل ایف ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے اپریل 2026 کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستانی فوج، اس کے دیگر کلیدی سکیورٹی اداروں اور استعماری دفاعی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا۔ ان منظم کارروائیوں کا دائرہ کار پروم، پسنی، تربت، خضدار، بیسیمہ، جھاؤ، چاغی، واشک، مند، مستونگ، بارکھان، قلات، کردگاپ، کولواہ، مشکے، کوئٹہ اور آواران سمیت 17 مختلف علاقوں تک پھیلا رہا۔ ان تمام کارروائیوں کا بنیادی مقصد قابض ریاست کے استحصالی ڈھانچے کو مفلوج کرنا اور مقبوضہ بلوچستان میں اس کی عسکری گرفت و استعماری عمل داری کو جڑوں سے کھوکھلا کرکے ختم کرنا ہے۔
 
ترجمان کے مطابق ماہ اپریل کے مہینے میں مجموعی طور پر 30 مسلح کارروائیاں سرانجام دی گئیں، جن میں تزویراتی حکمت عملی کے تحت دشمن کو ہر محاذ پر زک پہنچائی گئی ہے۔ بی ایل ایف کی ان منظم حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 39 اہلکار ہلاک اور 8 سے زائد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ان جرات مندانہ معرکوں نے ثابت کر دیا ہے کہ جذبہ آزادی سے سرشار سرمچاروں کی کامیاب عسکری پلاننگ کے باعث اب دشمن کے لیے بلوچستان کا کوئی بھی علاقہ، خواہ وہ شہری مراکز ہوں یا دور افتادہ پہاڑی سلسلے، محفوظ نہیں رہا۔
 
انہوں نے کہا کہ اپریل کی سب سے اہم اور اسٹریٹجک نوعیت کی کارروائی جھاؤ کے مقام سیڑھ پر سرانجام دی گئی، جہاں سرمچاروں نے منصوبے کے تحت گھات لگا کر دشمن کے فوجی قافلے پر ایک مربوط و مہلک تزویراتی حملہ کیا جس میں سرمچاروں نے جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے 10 اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا۔ اس حملے میں قابض فوج کی تین فوجی گاڑیاں بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ اس معرکے کے دوران فضا میں نگرانی پر مامور دشمن کے ایک کواڈ کاپٹر کو بھی سرمچاروں نے اپنی مہارت سے مار گرایا۔
 
بیان میں کہا گیا کہ عسکری پیش قدمی کے تسلسل میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے دشمن کے قلعہ بند پوزیشنوں کو نشانہ بناتے ہوئے 3 بڑے فوجی کیمپوں اور 2 اہم چیک پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے۔ ان حملوں کے دوران دشمن کے دفاعی حصار کو توڑ کر اسے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ سرمچاروں نے ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر دشمن کی محفوظ ترین سمجھی جانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ دشمن کی نقل و حرکت، اور رسد و کمک کے نظام کو مفلوج کرنے کے لیے سرمچاروں نے اپریل کے مہینے میں 7 مختلف مقامات پر اسٹریٹجک ناکہ بندیاں قائم کیں۔ ان ناکہ بندیوں کے دوران سرمچاروں نے شاہراہوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے دشمن کی فوجی سپلائی لائن، اور نقل و حرکت کو منقطع و محدود کیا، جبکہ مختلف علاقوں میں مربوط ٹارگٹڈ آپریشنز کے ذریعے قابض فوج کی گاڑیوں کے قافلوں کو 6 مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔
 
بی ایل ایف ترجمان کا کہنا تھا کہ تکنیکی اور مواصلاتی محاذ پر دشمن کو کمزور کرنے کے لیے سرمچاروں نے دشمن کی طرف سے نصب نگرانی کے جدید آلات اور نظام کو نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں مختلف کارروائیوں کے دوران دشمن کے 5 ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ بصری نگرانی کے لیے نصب کردہ 1 جدید کیمرہ اور 3 موبائل ٹاورز کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ ان کاروائیوں کا مقصد دشمن کی انٹیلیجنس اور نگرانی کی صلاحیت کو مفلوج اور ختم کرنا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ دشمن کو مالی و مادی نقصانات پہنچانے کے منصوبے کے تحت مجموعی طور پر قابض فوج کی 12 چھوٹی و بڑی گاڑیوں کو بارودی مواد اور راکٹوں کی مدد سے تباہ کی گئیں۔ مزید برآں، مختلف جھڑپوں اور کامیاب چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پسپا ہونے والے دشمن کے اہلکاروں سے 8 ہتھار و ساز سامان قبضے میں لے کر ضبط کر لیا گیا۔
 
بیان میں کہا گیا کہ عسکری کاروائیوں میں تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے اس ماہ میں دشمن کے خلاف مختلف جنگی حربے استعمال کیے گئے۔ مجموعی طور پر 9 مرتبہ دشمن پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے، جبکہ 4 مرتبہ گھات لگا کر حملے کئے گئے، 3 با سنائپر شاٹس میں دشمن کو نشانہ بنایا گیا، اور 3 آئی ای ڈی (IED) دھماکے کیے گئے۔ اس کے علاوہ خاران اور خضدار کے علاقوں میں گرنیڈ لانچر اور دستی بموں کے ذریعے دشمن کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ متنوع حملے تنظیم کی عسکری مہارت، کامیاب منصوبہ بندی،ہر قسم کے حالات میں جنگ لڑنے کے جذبے  اور بھرپور تیاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ ماہ اپریل میں مادرِ وطن کی آزادی اور قومی بقا کی اس عظیم جنگ میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے 7 جانباز سرمچاروں نے دشمن کے خلاف دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان شہداء نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جدوجہدِ آزادی کی شمع کو روشن رکھا۔ شہید سرمچاروں نے اپنے عظیم قربانی سے دشمن پر یہ واضح کر دیا ہے کہ بلوچ قوم کو فوجی طاقت و جبر سے زیر دست و محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔ قومی آزادی کی عظیم مقصد کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان تمام قومی شہداء کو بی ایل ایف خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اپنے اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ شہداء کا مشن منزل کے حصول تک جاری رہے گا اور دشمن سے ان کے لہو کے ایک ایک قطرے کا حساب میدانِ جنگ میں لیا جائے گا۔

Share This Article