بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگچرمیں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل ہونے والے عبداللہ بلوچ کے فیملی نے انصاف کے حصول کیلئے میت کے ہمراہ احتجاجاًروڈ بلاک کرکے دھرنادیدیا ہے۔
دھرنے کی وجہ سے کوئٹہ کراچی مین شاہراہ مکمل بند کر ہے ۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ انصاف کے حصول تک روڈ بند رہے گا۔
واضع رہے کہ عبداللہ بلوچ کے بھائی قدوس بلوچ دو سال پہلے چوروں نے اغوا کر کے قتل کیا تھا۔
قدوس کے قاتل پکڑے جانے کے بعد جیل سے فرار ہو گئے اور مسلسل عبداللہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ آج جب عبداللہ اپنے بھايئی کے پیشی کے لیے گئے تھے اور جب عدالت سے نکلے تو بیچ بازارمیں انہیں نشانہ بنایا گیا۔
ریاستی پولیس اور انتظامیہ جو ہر دو گز کے فاصلے پہ چیک پوسٹ بنا کے ہر آنے جانے والے کو روک کے چیکنگ کرتے ہیں۔ وہ بلوچ قوم کو تحفظ فراہم میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ ہر اس اہلکار اور آلہ کار کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں جو بلوچ کی نسل کشی میں ملوث ہے۔
اس وقت مقتول عبداللہ بلوچ کے خاندان نے قلات کے مقام پر کوئٹہ کراچی مین شاہراہ مکمل بند کر دیا ہے اور لاش کے ہمراہ دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ انصاف کے حصول تک روڈ بند رہے گا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی قلات زون دھرنے کی مکمل حمایت کا اظہارکیاہے اور بلوچ عوام سے اپیل ہے کہ وہ دھرنا گاہ پہنچیں اور متاثرہ خاندان کا ساتھ دیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ نسل کشی کے خلاف منظم قومی مزاحمت واحد راستہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بینالاقوامی اداروں سے گزارش ہے کہ وہ اس نسل کشی کا نوٹس لے۔