بلوچستان میں سیکورٹی کے بہانے فورسزہاتھوں جبری گمشدگیاں معمول بن گئیں، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی) کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی کے بہانے زبردستی اغوا، حراست اور گمشدگی ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے روز کا معمول بن گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحصیل پسنی، ضلع گوادر میں اغوا کے حالیہ واقعات نیم فوجی تشدد اور عام بلوچوں کے خلاف جارحیت کی نمایاں مثالیں ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں صرف تحصیل پسنی میں فرنٹیئر کرپس (ایف سی) کے چھاپوں سے کل سولہ افراد کو لاپتہ کیا گیا۔

انہوںنے کہا کہ پسنی سے جبری طور پر لاپتہ کئے گئے نوجوانوں میں مقبول اکرم (وارڈ 6 کا رہائشی)،سلیم رضا (وارڈ 6 کا رہائشی)،احمد رضا (وارڈ 6 کا رہائشی)، صالح ریاض (وارڈ 3 کا رہائشی)، نصیب سووالی (وارڈ 6 کا رہائشی)، فصیل سویلی (وارڈ 6 کا رہائشی)، ساجد سویلی (وارڈ 6 کا رہائشی)، علی بلوچ (وارڈ 5 کا رہائشی)، زمان ولد پلن (وارڈ 1 کلانچی محلہ)،روڈین شکیل، ولید ولد مجید، ندیم ولد مجید، حفیظ ولد مجید اوروسیم ولد مجید شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جب جبری طور پر لاپتہ کیے گئے متاثرین کے خاندانوں نے احتجاج کیا اور جواب طلب کرنے کے لیے زیرو پوائنٹ پر ہائی وے کو بلاک کر دیا، پولیس اور انتظامیہ نے ان کے خلاف اپنی پوری طاقت کا استعمال کیا، بشمول خواتین اور بچوں کو اذیت ناک طور پر نقصان پہنچایا اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، متاثرین کے اہل خانہ اپنے احتجاج کو پرامن طریقے سے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے اور پسنی، زیرو پوائنٹ پر ناکہ بندی برقرار رکھی۔

ترجمان نے کہا کہ بی وائی سی مطالبہ کرتا ہے کہ نیم فوجی اور پولیس پہلے سے ہی ایسی سردی میں سڑک پر بیٹھے مصیبت زدہ خاندانوں کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے سے گریز کریں۔ ہم بلوچ مقامی لوگوں اور قوم سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی حمایت کریں، جواب طلب کریں اور اپنی آواز کو مضبوط کریں۔

Share This Article