بلوچستان کے علاقے کو سندھ کا محفوظ ورثہ قرار دینے پر تنازع

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے کتے جی قبر ( ڈاڈھیارو) کو صوبہ سندھ کا محفوظ ورثہ قرار دینے پر بلوچستان اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔

اس سلسلے میں محکمہ ثقافت، سیاحت حکومت بلوچستان نے سندھ کے محکمہ ثقافت و سیاحت سے بلوچستان کے علاقےکتے جی قبر ( ڈھاڈارو) کو صوبہ سندھ کا محفوظ ورثہ قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ثقافت وسیاحت حکومت بلوچستان نے مزید لکھا ہے کہ کتے جی قبر ( ڈھاڈارو) سندھ کا حصہ نہیں ، بلکہ بلوچستان کے تیسرے بڑے ضلع خضدار کی تحصیل کرخ کا حصہ ہے ۔لہذا محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ اپنا جاری نوٹیفکیشن واپس لے ۔

بلوچستان کے محکمہ ثقافت، سیاحت اور آثار قدیمہ نے حکومتِ سندھ کے سیکریٹری ثقافت کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں "کتے جی قبر” کو سندھ کے ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا کہا گیاہے۔

خط میں کہا گیا کہ کتے جی قبر ( ڈھاڈارو) سندھ کا حصہ نہیں ، بلکہ بلوچستان کے تیسرے بڑے ضلع خضدار کی تحصیل کرخ کا حصہ ہے ۔لہذا محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ اپنا جاری نوٹیفکیشن واپس لے ۔

بلوچستان حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ مقام درحقیقت ضلع خضدار، بلوچستان کی حدود میں واقع ہے اور اسے سندھ کے ثقافتی ورثے میں شامل کرنا غیر آئینی اور انتظامی خلاف ورزی ہے۔

خط میں تاریخی حوالہ جات پیش کیے گئے ہیں، جن کے مطابق 1907 کے بلوچستان گزٹیئر، 1922 کے ضلعی گزٹیئر، 1961 کی مردم شماری اور 1964 کے جیولوجیکل سروے میں اس علاقے کو بلوچستان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ یونین کونسل سنچاکو، سب تحصیل کارخ، ضلع خضدار کے 16 دیہات غلطی سے سندھ میں شامل کر دیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں بلوچستان کا حصہ قرار دیا گیا۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ یہ علاقے سندھ کی حدود سے خارج کر دیے گئے ہیں اور مکمل طور پر بلوچستان کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ، بلوچستان کے ریونیو ریکارڈز، مردم شماری کی رپورٹس اور سرکاری نقشے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ "کتے جی قبر” بلوچستان کی حدود میں واقع ہے۔

بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو کسی دوسرے صوبے کے علاقے کو اپنی ثقافتی وراثت میں شامل کرنے کا اختیار نہیں، اور اگر یہ نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے تاکہ بلوچستان کی علاقائی خودمختاری محفوظ رہے۔

Share This Article