بھارت میں اتر پردیش کے پریاگ راج میں جاری کمبھ میلے کے دوران بدھ کی رات تقریباً 1.30 بجے ایک گھاٹ پر بھگدڑ مچ گئی، جس میں کم از کم 30 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس حادثے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انتظامیہ نے شام تک ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا تھا۔
بعد ازاں ڈی آئی جی، مہاکمب نگر میلہ علاقہ ویبھو کرشنا نے شام کو میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مہاکمب میں بھگدڑ میں 30 لوگوں کی موت ہوئی، جن میں سے 25 کی شناخت ‘ہوگئی ہے۔ 60 زخمیوں کا اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔
اس واقعہ کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اکھاڑہ کے علاقے میں رکاوٹیں لگائی گئی ہیں، ان میں سے کچھ رکاوٹیں ٹوٹ گئیں، بہت سے عقیدت مند گھاٹ پر برہما مہورت کا انتظار کر رہے تھے، اس کے بعد بہت سے دوسرے عقیدت مند وہاں پہنچ گئے، وہ دیکھ نہیں پائے۔ پتہ چلا کہ کون لیٹا تھا، اور اس طرح یہ حادثہ ہو گیا۔
مہا کمبھ کا میلہ ہر 12 برس میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے جس میں کروڑوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ یہ میلہ 13 جنوری کو شروع ہوا تھا اور تقریباً چھ ہفتے جاری رہتے ہیں۔
اس میلے کے دوران دنیا بھر سے آنے والے عقیدت مند سنگم پر غسل کرتے ہیں، یہ وہ مقام ہے جہاں ہندو عقیدے کے مطابق مقدس دریا گنگا، جمنا اور اساطیری دریا سرسروتی ملتے ہیں۔
بدھ کو اُتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ مہا کمبھ کے دوران وہاں ایک بہت بڑا جمِ غفیر اُمڈ آیا ہے اور اب تک تقریباً تین کروڑ افراد وہاں غسل کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صورتحال قابو میں ہے اور کسی کو منفی خبریں نہیں پھیلانی چاہییں کیونکہ اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
اُتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کے مطابق میلے میں بھگدڑ رات ‘ایک اور دو بجے کے درمیان’ مچی جب کچھ عقیدت مندوں نے پولیس کی جانب سے رکاوٹیں ہٹا کر سنگم پہنچنے کی کوشش کی۔
دوسری جانب اس حادثے سے متاثر ہونے والے افراد کمبھ میلے کی انتظامیہ اور وہاں کیے جانے والے انتظامات پر انگلیاں اُٹھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
بااثر ہندو مذہبی شخصیت پریم آنند پوری کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے وی آئی پیز کو ترجیح دی اور عام زائرین کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔
چھبیس فروری کو اختتام پذیر ہونے والے اس تہوار کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے انسانیت کے ناقابل تسخیر ورثے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
اس کی بنیاد دیوتاؤں اور راکشسوں کے درمیان امرت کے ایک کمبھ (ایک گھڑے) کے لیے لڑائی کے بارے میں ایک افسانوی کہانی میں پنہاں ہے جو سمندر کے منتھن (کھنگالنے) کے دوران نکلا تھا۔
اس کہانی اور پیروکاروں کے مانے گئے عقیدے کے مطابق جیسے ہی دونوں فریق امرت کے کمبھ (برتن) پر لڑ رہے تھے کیونکہ اس کے پینے سے ان سے لافانی ہونے کا وعدہ کیا گیا تھا تو اس میں سے چند قطرے چھلک پڑے اور چار شہروں پریاگ راج، ہریدوار، اجین اور ناسک میں گرے۔
یہ لڑائی 12 آسمانی سالوں تک جاری رہی تھی اور ہر ایک آسمانی سال زمین کے 12 سال کے برابر ہے۔ اس لیے کمبھ میلہ ان چاروں شہروں میں ہر 12 سال منعقد ہوتا ہے۔ درمیان میں ایک اردھ کمبھ یعنی نصف کمبھ ہوتا ہے جسے ہر چھ سال پر منعقد کیا جاتا ہے۔