امریکہ واسرائیل حملوں میں خامنہ ای ہلاک، ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایرانی سرکاری میڈیا اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای سنیچر کی صبح تہران میں اپنے دفتر میں امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں ہلاک ہو گئے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک میں 40 روزہ سوگ اور 7 دن کی عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے پہلے ہی لیڈرشپ ہاؤس کمپاؤنڈ کو پہنچنے والے شدید نقصان کی تصدیق کی تھی۔

پاسدارانِ انقلاب سے منسلک میڈیا نے کہا ہے کہ خامنہ ای کی اپنے دفتر میں ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے چھپنے کی خبریں ’’دشمن کی نفسیاتی جنگ‘‘ تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ’ٹروتھ‘ پر لکھا کہ خامنہ ای ’’تاریخ کے سب سے برے لوگوں میں سے ایک‘‘ تھے اور ان کی ہلاکت ’’ایرانی عوام اور دنیا بھر کے اُن لوگوں کے لیے انصاف ہے‘‘ جو ان کے دورِ حکومت میں مارے گئے یا متاثر ہوئے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں اب بھی دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 86 سالہ رہبرِ اعلیٰ کے بعد قیادت کون سنبھالے گا۔

ایران کے کئی سرکاری میڈیا اداروں نے ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، تاہم جانشینی کے حوالے سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں خامنہ ای کی بیٹی، داماد، نواسہ اور ایک بہو بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق مشترکہ حملوں میں تقریباً 40 ایرانی حکام مارے گئے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کور کمانڈر اور وزیرِ دفاع بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ ایران نے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

ہلالِ احمر کے مطابق امریکی–اسرائیلی حملوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملے میں 108 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں زیادہ تر طالبات شامل ہیں۔

خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں اور امریکی فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، جن میں دبئی، دوحہ، بحرین اور کویت شامل ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

برطانوی وزیراعظم سر کیر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ خطے میں ’’ہم آہنگ دفاعی کارروائیوں‘‘ میں حصہ لے رہا ہے تاکہ اپنے شہریوں اور شراکت داروں کی حفاظت کی جا سکے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جبکہ امریکی کانگریس میں بھی اس آپریشن پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

Share This Article