کوئٹہ پریس کلب میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ میڈیا ٹاک کے دوران پولیس کی مبینہ مداخلت اور صحافیوں کو کوریج سے روکنے کے واقعے کے بعد صحافتی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد بلوچستان حکومت کا اعلیٰ سطحی وفد پریس کلب پہنچا اور صحافی قیادت سے مذاکرات کیے۔
گزشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی میڈیا ٹاک کے دوران پولیس اہلکاروں نے پریس کلب میں داخل ہوکر پریس کانفرنس روک دی اور صحافیوں کو کوریج سے منع کیا، جسے صحافتی تنظیموں نے آزادی اظہارِ رائے اور پریس کلب کے تقدس کی خلاف ورزی قرار دیا۔
وزیر بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں آنے والے حکومتی وفد میں سردار کوہیار ڈومکی، محمد خان لہڑی، نصیب اللہ مری، وزیراعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند اور پریس سیکرٹری شیخ رزاق شامل تھے۔
پریس کلب کی جانب سے صدر عرفان سعید، بی یو جے کے صدر منظور احمد، سیکرٹری ایوب ترین، سیکرٹری بی یو جے شاہ حسین ترین اور سینئر صحافی سلیم شاہد نے وفد سے ملاقات کی۔
صحافی قیادت نے وفد کو بتایا کہ پریس کلب کے تقدس کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے۔ پولیس کا رویہ غیرذمہ دارانہ تھا اور یہ واقعہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ اس سے قبل بھی پولیس کی جانب سے تین بار پریس کلب میں مداخلت ہو چکی ہے۔ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
حکومتی وفد نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔
وفد نے صحافیوں کے مطالبات وزیراعلیٰ کے سامنے رکھنے اور جمعرات تک پیش رفت سے آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
صحافی تنظیموں نے لائحہ عمل موخر کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور پر اتفاق کیا۔