بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ روز بم حملوں اور فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ڈیرہ بگٹی، تربت اور ڈیرہ مراد جمالی میں پیش آنے والے یہ واقعات سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قبائلی شخصیت وڈیرہ شیردل کرمزئی بگٹی کے گھر پر دستی بم پھینکا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔
دھماکے میں وڈیرہ شیردل بگٹی کا بیٹا جبار بگٹی موقع پر ہلاک ہوگیاجبکہ دوسرا بیٹا عزیز بگٹی شدید زخمی ہوا، جسے ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے رحیم یار خان منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے جبکہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے مصروف علاقے تعلیمی چوک میں زور دار دھماکے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
زخمیوں کی شناخت نثار ولد محمد اعظم اور خورشید ولد کریم داد کے ناموں سے ہوئی ہے، دونوں کا تعلق کوشک ملک آباد سے بتایا جاتا ہے۔
زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کیے۔
اسی طرح ناصر آباد میں پیش آنے والی ایک جھڑپ کے دوران ایک راہ گیر زخمی ہوگیا۔
علاقے میں صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
دریں اثنا ڈیرہ مراد جمالی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ایس ایس پی ہائی وے پولیس کے دفتر پر دستی بم پھینکا۔
دھماکے سے دفتر کی دیوار اور گیٹ کو نقصان پہنچا۔تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔