ایرانی جوابی حملوں میں اسرائیل و خلیجی ممالک میں 16 افراد ہلاک، 3 امریکی 2اسرائیلی فوجی بھی شامل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایرانی جوابی حملوں میں اسرائیل و خلیجی ممالک میں 16 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 3 امریکی اور 2 اسرائلی فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی ایمرجنسی ریسکیو سروس میگن ڈیوڈ ادوم کے مطابق وسطی شہر بیت شمس میں ایرانی میزائل حملے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔

یہ حملہ ایک رہائشی عمارت پر براہِ راست میزائل گرنے کے نتیجے میں ہوا، جس سے عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں اور ہیلی کاپٹر موقع پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’’شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر معصوم شہریوں کو قتل‘‘ کر رہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

یہ ہلاکتیں امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں کے تناظر میں پہلی مرتبہ رپورٹ کی گئی ہیں۔

سینٹ کام کے مطابق ہلاک فوجیوں کے نام اہلِ خانہ کو اطلاع دینے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ’’ایران کے خلاف آپریشن میں امریکی جانوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘

اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈفرین نے بتایا کہ ایرانی میزائل حملوں میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق اسرائیل کے پاس مضبوط فضائی دفاعی نظام موجود ہے، لیکن ’’یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں‘‘۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے دفاعی نظام کو ’’شدید نقصان‘‘ پہنچایا ہے اور امریکہ کے ساتھ مل کر کارروائیاں جاری رکھے گی۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں تین افراد ہلاک اور 58 زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت کے مطابق اب تک 167 میزائل اور 541 ایرانی ڈرونز کو روکا گیا، جن میں سے 35 ڈرونز ملک کی حدود میں گرے۔

کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک 97 بیلسٹک میزائل اور 283 ڈرونز کو تباہ کیا گیا ہے۔

کویتی وزارتِ صحت نے ایک ہلاکت اور 32 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

کہا جارہا ہے کہ اسرائیل میں 9 شہری ، امریکی فوج کے 3 اہلکار ، اسرائیلی فوج کے 2 اہلکار، متحدہ عرب امارات میں 3 افراد اور کویت میں 1 شخص ہلاک ہوگیا۔

مذکورہ حملوں میں درجنوں افراد زخمی اور متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

ایران کی جانب سے یہ حملے اس کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد جاری جوابی کارروائیوں کا حصہ ہیں، جس کے نتیجے میں پورا خطہ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔

Share This Article