امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کی صبح ایران کے مختلف فوجی اور حکومتی اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن میں تہران سمیت کئی شہروں میں دھماکوں اور آگ کے مناظر دیکھے گئے۔
اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، اور رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیرِ دفاع امیر ناصرزادہ بھی ہلاک ہوئے۔لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
خلیجی ممالک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، خاص طور پر بحرین، قطر اور اردن میں، جہاں امریکی اور اتحادی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے میں کم از کم 40 سے 51 طالبات کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جو اس بحران کا سب سے المناک پہلو ہے۔
تہران میں سپریم لیڈر کے کمپلیکس کے قریب بھی شدید تباہی کی تصاویر سامنے آئی ہیں، جن سے حملوں کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
یورپی یونین نے صورتحال کو "انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے مزید کشیدگی سے بچنے کی اپیل کی ہے۔
عالمی طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ یہ جنگ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے جوہری پروگرام پر پہلے ہی تناؤ موجود ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو "بڑے فوجی آپریشن” کا آغاز قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے مبینہ "فوری خطرات” کو روکنے کے لیے کی گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ایران کی جوابی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ محض ایک محدود آپریشن نہیں بلکہ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھتا ہوا بحران ہے۔ خلیجی ممالک، اسرائیل، عراق اور اردن سب اس کشیدگی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں بھی شدید بے چینی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور خطے کی معاشی صورتحال کے حوالے سے۔