واشنگٹن میں قائم ایرانی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس گروپ کے مطابق سنیچر سے شروع ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں کم از کم 133 عام شہری ہلاک اور 200 زخمی ہوئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 18 صوبوں میں 58 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں تہران سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
رپورٹ میں بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اداروں کو پہنچنے والے نقصان اور متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ معطلی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے تصدیق کی ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف میجر جنرل محمد پاکپور، ایران کی ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی، وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ حملہ دفاعی کونسل کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں اعلیٰ فوجی قیادت موجود تھی۔
محمد پاکپور کو 2025 کی 12 روزہ ایران اسرائیل جنگ میں اپنے پیشرو کی ہلاکت کے بعد کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ شمخانی اس جنگ میں زخمی بھی ہوئے تھے۔ دونوں پر امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیاں بھی عائد تھیں۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پولیس انٹیلی جنس آرگنائزیشن (فرازہ) کے سربراہ غلام رضا رضایان بھی حملوں میں مارے گئے ہیں۔
رضایان ایران کی پولیس فورس میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے تھے، تاہم ان کی ہلاکت کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا ہے کہ تہران میں ہلال احمر امن عمارت کے گردونواح کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید حملے خاتم الانبیاء، مطہری اور بہزستی ہسپتالوں کے قریب بھی کیے گئے، جس سے شہری خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔
صورتحال کا مجموعی جائزے کے مطابق 133 سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ 18 صوبوں میں 58 حملے ہوئے جس کے نتیجے میں اعلیٰ فوجی قیادت کے متعدد اہم ارکان ہلاک ہوگئے جبکہ ہسپتالوں اور امدادی اداروں کے قریب حملے ہوئے۔
حملون کے باعث انٹرنیٹ سروسز متاثر، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ حملے ایران کی سیاسی، عسکری اور سماجی صورتحال کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔