ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی مسلسل قید، بی وائی سی کا ریاستی جبری پالیسیوں پر سخت مؤقف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے اپنے ایک آن لائن پمفلٹ میں کہاہے کہ بلوچستان میں گزشتہ برس مارچ سے ریاستی کارروائیوں میں شدت آئی ہے اور سیاسی کارکنوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور مبینہ ماورائے عدالت کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق مارچ 2023 میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سریاب روڈ سے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں جیل منتقل کر دیا گیا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سال گزرنے کے باوجود مقدمات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور وہ بغیر ثبوت کے قید ہیں۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سرگرم سیاسی آواز کو خاموش کرنے کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے بعد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، فائرنگ کے واقعات اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بی وائی سی کے مطابق بعض خاندانوں کو دھمکیوں کا سامنا ہے جس کے باعث وہ کھل کر بات نہیں کر پاتے۔

تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کا مقصد سیاسی سرگرمیوں کو دبانا ہے۔

بی وائی سی نے عدلیہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، مگر انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور فیصلے ریاستی دباؤ کے تحت سنائے جاتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق عدالتی خاموشی مبینہ ریاستی کارروائیوں کو تقویت دے رہی ہے۔

پمفلٹ میں بین الاقوامی انسانی حقوق اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بلوچستان کی صورتحال پر توجہ دیں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔

Share This Article