پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی کے علاقے لیاری سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پولیس کے ہاتھوں گرفتارمظاہرین کو رہا کردیا گیا ہے۔
اس بات کی تصدیق بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے کی ہے۔
سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ لیاری سے گرفتار کیے گئے ہمارے ساتھیوں کو رہا کر دیا گیا ہے، لیکن 19 جنوری کو ملیر شرافی گوٹھ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ احتجاجی ریلی کے بعد گرفتار کیے گئے آٹھ مقامی افراد تاحال پولیس کی حراست میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے 4 کا تعلق کوئٹہ سے ہے، جو کرکٹ کے کھلاڑی ہیں اور ایک کرکٹ کلب میں کھیلنے کے لیے آئے تھے۔
سمی بلوچ نے کہا کہ کل ان افراد کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج نے ان کی گرفتاری کو ناجائز قرار دیا۔ اس کے باوجود پولیس ان کے کیس کو مزید پیچیدہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں حراست میں رکھنے پر بضد ہے۔
جبکہ 18 جنوری کو بی وائی سی کی 25 جنوری میں دالبندین میں منعقدہ عوامی اجتماع کیلئے آگاہی مہم کے سلسلے میں لیا ری میں بی وائی سی کے ریلی پر کریک ڈائون کیا گیا جس میں سمی بلوچ ، لالہ وہاب بلوچ ، سرفراز بلوچ ،قاضی امان سمیت 30 کے قریب افراد کو گرفتارکیا گیا تھا۔
دوسرے دن کراچی علاقے ملیر شرافی گوٹھ میں منعقدہ آگاہی مہم میں کے بعد 8 نوجوانوں کو بھی حراست بعد لاپتہ کیا گیا تھابعدازاں ان کی گرفتاری ظاہر کردی گئی لیکن وہ تاحال پولیس کے تحویل میں ہیں۔