بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈمیں ڈیڑھ ارب سے زائد کے گھپلوں کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

آڈیٹر جنرل پاکستان نے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ میں 2017سے 2022کے دوران ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کے گھپلوں کی نشان دہی کردی ہے۔

بلوچستان اسمبلی نے آڈٹ رپورٹ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سپرد کردی۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ تیار کرکے بلوچستان اسمبلی میں پیش کردی ۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2017سے 2022کے دوران ضرورت کے برعکس کتابوں کی مشکوک پرنٹنگ سے قومی خزانے کو ایک ارب 64کروڑ کا نقصان پہنچا یا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کاغذ اور دیگر پرنٹنگ میٹریل کی خریداری میں تقریباً 53کروڑ 80لاکھ روپے جبکہ وینڈرز کو غیر ضروری رعایت دینے سے 23کروڑ 85لاکھ کی بے قاعدگی سامنے آئی ہے۔

کتب رکھنے کیلئے عمارت کے حصول میں 11کروڑ کا ٹیکا لگایا گیا۔

لائسنس فیس کی مد میں غیر ضروری اخراجات سے 21کروڑ کا نقصان ہوا۔

گورنمنٹ ٹیکس کی کم کٹوتی سے قومی خزانے کو 27کروڑ 23لاکھ کا نقصان اٹھانا پڑا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article