نوشکی وجیونی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں 4 نوجوان جبراً لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع نوشکی اور ضلع گوادر سے پاکستانی فورسز نے 4 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیاہے۔

شکیل ولد عبدالطیف سکنہ قاضی آباد اور ریاض ولد نیاز محمد سکنہ قادر آباد کے ناموں سے شناخت کئے گئے نوجوانوں کو فورسز نے گذشتہ روز نوشکی سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد دونوں کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق فورسز کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل تھے۔

دوسری جانب ضلع کیچ میں دو مقامات پر ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کیخلاف ظریف عمر ،زمان جان اور ابوالحسن کی فیملیزتربت میں ڈی بلوچ اور ہوشاپ میں سی پیک شاہراہوں پر ایک ہفتے سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں جس سے روڈبلاک ہے ۔ گاڑیاں ومسافر پھنسے ہوئے ہیں ۔

اسی طرح ضلع گْوادر کے علاقے جیونی گنز سے فورسز کے ہاتھوں 2 نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی اطلاعات ہیں۔

عاصم ولد عابد حسین اور ناصر ولد اسلم کے ناموں سے شناخت ہونے والوں نوجوانوں کا تعلق ساحلی شہر پسنی سے بتایا جارہا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمسن عاصم میں جیونی میں محنت مزدوری تیل کا کام کرتا تھا۔

عاصم ولد عابد حسین اور ناصر ولد اسلم کی جبری گمشدگی کی آزادانہ ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

Share This Article