لاپتہ طالب علم و صحافی زبیر بلوچ کی بازیابی پر دھرنے کے اختتام کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار طالب علم و صحافی زبیر بلوچ کی بازیابی پر ورثانے حب چوکی وکیچ تجابان سے جاری روڈبلاک دھرنے کے اختتام کا اعلان کردیا ہے۔

حب میں جاری دھرنا گاہ سے زبیر بلوچ کے ورثان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ صبح تین بجے زبیر بلوچ کو اس کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ زبیر، جو بلوچستان یونیورسٹی سے گزشتہ ماہ گریجویشن کر چکا تھا، اس کی جبری گمشدگی کے خلاف اہل خانہ نے کل دوپہر حب میں باوانی کے مقام پر دھرنا دیا تھا۔ دھرنے کے دوران تین سے چار مرتبہ ضلع انتظامیہ کے اہلکار آئے، جنہوں نے بار بار لواحقین کو ہراساں کیا اور دھرنا ختم کرنے کی دھمکیاں دیں۔

ان کاکہنا تھا کہ آج دوپہر، جب اہل خانہ نے دھرنے کے مقام سے پر امن ریلی نکالنے کی کوشش کی، تو پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مظاہرین، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی، پر شدید تشدد کیا۔ اس واقعے میں متعدد خواتین، بچے، اور نوجوان زخمی ہوئے۔ اسی دوران ہمارے ساتھی، جمال بلوچ، کو گرفتار کرکے لاپتہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب سے کچھ دیر قبل، غالباً شام 6 بجے، زبیر بلوچ کے اہل خانہ کو ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے فون کال موصول ہوئی، جس میں انہیں بتایا گیا کہ زبیر بلوچ کو رہا کیا جا رہا ہے اور اسے لینے کے لیے ایک نامعلوم پتہ دیا گیا۔ اہل خانہ وہاں پہنچے اور زبیر بلوچ کو اپنے ساتھ لے آئے۔

ورثا کا کہنا تھا کہ اسی طرح کچھ دیر قبل ہائیٹ تھانے کے ایس ایچ او نے فون کرکے ہمیں اطلاع دی کہ جمال بلوچ ان کے پاس ہیں اور انہیں لینے کے لیے کہا گیا۔ زبیر بلوچ اور جمال بلوچ دونوں زندہ اور سلامات بازیاب ہو گئے ہیں۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے ان تما م افرادکا تہہ د ل شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا اور ان کے ساتھ کھڑے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ زبیر بلوچ اور جمال بلوچ کو غیر قانونی طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟ دورانِ حراست انہیں بدترین تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟

ہماری اپیل ہے کہ:

  1. زبیر بلوچ، جمال بلوچ، اور مظاہرین پر تشدد میں ملوث خفیہ اداروں اور سیکورٹی فورسز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
  2. جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔
  3. ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ہم اس پریس کانفرنس کے توسط سے دھرنے کے اختتام کا اعلان کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، بلوچ عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیوں پر کسی بھی صورت خاموش نہ رہیں اور اس ظلم، جبر، اور بربریت کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article