ادارہ "سنگر” کے بانی اور چیف ایڈیٹر شوکت بلیدی بلوچ کی پہلی برسی کل، 5 اکتوبر کو منائی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس 5 اکتوبر 2025 کو بے وقت رخصت ہونے والے شوکت بلیدی نے بلوچ صحافت، قومی شناخت اور فکری آگاہی کے میدان میں جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب بن چکی ہیں۔
پاکستانی میڈیا میں بلوچستان کے مسائل، انسانی حقوق کی پامالیوں اور قومی مظالم سے متعلق پیدا ہونے والے شدید خلا کو محسوس کرتے ہوئے شوکت بلیدی نے 2009 میں "سنگر” کا سنگِ بنیاد رکھا۔ ان کا بنیادی مقصد بلوچستان کی حقیقی صورتحال کو بغیر کسی سنسرشپ کے دنیا کے سامنے لانا اور بلوچ قوم کو فکری و سیاسی طور پر منظم و باخبر کرنا تھا۔
شوکت بلیدی نے جنوری 2012 میں "ماہنامہ سنگر میگزین” کا باقاعدہ آغاز کیا اور متعدد معلوماتی و فکری کتب شائع کیں۔ تاہم 2015 کے بعد کراچی کے اس پرنٹنگ پریس پر فورسز کے چھاپے اور پریس کو سیل کیے جانے کے بعد پرنٹنگ کا سلسلہ معطل ہو گیا۔ اس شدید ریاستی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود شوکت بلیدی نے ہمت نہ ہاری اور سنگر کو ڈیجیٹل میڈیا (ویب سائٹ) پر منتقل کر دیا۔
جلاوطنی، بیماری ،سیکورٹی تھریٹ ،شدید مالی مشکلات، اور مسلسل سائبر حملوں کے باوجود شوکت بلیدی نے "سنگر” کے کاروان کو رکنے نہ دیا۔ انہوں نے صحافت کو صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک قوم کی نظریاتی و سیاسی تربیت کا مورچہ بنا کر پیش کیا۔ ان کی قیادت میں "سنگر پبلی کیشنز” نے پی ڈی ایف کتب اور آن لائن اشاعت کے سلسلے کو مسلسل جاری رکھا۔
شوکت بلیدی آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں ہیں، لیکن "سنگر” کی صورت میں ان کا قائم کردہ ادارہ اور ان کا وژن بلوچ قوم کی آواز بن کر ہمیشہ زندہ رہے گا۔