بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں ماشکیل میں کاڈ اور قربان یونٹ کی جانب سے فرنٹیئر کور 58 ونگ کے کیمپ پر حملے میں 18 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں دو سرمچار بھی جامِ شہادت نوش کرگئے۔
ترجمان کے مطابق یکم اکتوبر 2026 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے نو تشکیل شدہ خواتین یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) اور ہراول دستے قربان یونٹ کے سرمچاروں نے واشک کے علاقے ماشکیل گوریندر میں قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 58 ونگ کے اہم فوجی کیمپ کو کامیابی کے ساتھ مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے دشمن کے کیمپ کو مختلف اطراف سے مکمل گھیرے میں لے کر راکٹوں گرینیڈ لانچروں اور دیگر خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن فوج کے 18 اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی کے دوران حواس باختہ فوج کے کچھ اہلکار اپنا اسلحہ نیز کیمپ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ قابض فوج کی کمک کے لیے آنے والے قافلے کو بھی سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے اور کمک کے لیے آنے والا قافلہ پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ بعد ازاں قابض فوج نے اپنے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر پنجگور منتقل کر دیا۔ قابض فوج اپنے ہلاک اہلکاروں کی تعداد اور شناخت چھپا رہی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ قابض فوج بلوچستان میں ایک شکست خوردہ جنگ لڑ رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس تاریخی اور پرعزم مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے دوران تنظیم کے دو بہادر سرمچار شہید ساجد عرف مہران ولد خالد ساکن بلیدہ اور شہید عبدالخالق عرف نوتک ولد سنجر ساکن پروم نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کا یہ عظیم ایثار اور لازوال قربانی بلوچستان کی آزادی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کا اس اہم حملے میں مرکزی کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں خواتین اب محض سیاسی یا نظریاتی حد تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ جابرانہ پالیسیوں اور ریاستی جبر کے خلاف میدان جنگ میں باقاعدہ فرنٹ لائن پر آ چکی ہیں۔ شہید بانک کریمہ بلوچ کے نام سے منسوب یہ ڈویژن بلوچ خواتین کے بے مثال عزم استقامت اور مزاحمتی جذبے کا روشن استعارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قائم قابض فوج کے کیمپ بلوچ قومی وسائل کے بے دردی سے استحصال بلوچ نسل کشی اور چادر و چار دیواری کی پامالی کے بنیادی مراکز ہیں۔ ان تمام فوجی اڈوں کا مکمل خاتمہ اور بلوچستان کی سرزمین سے قابض فوج کا بلا مشروط انخلا، آزاد اور خودمختار بلوچستان ہی بلوچ قومی بقا کا واحد ضامن ہے۔ جب تک بلوچ سرزمین پر ایک بھی فوجی موجود ہے اور بلوچ قوم کے سیاسی و معاشی حقوق پر غصبی تسلط برقرار ہے ہماری مسلح جدوجہد اور مزاحمت مزید طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔
تنظیم کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے شہدا کے فکر اور فلسفے پر گامزن رہتے ہوئے بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ شہدا کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام تک یہ جنگ تمام تر محاذوں پر پوری قوت اور دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ لڑی جائے گی۔
آخر میں بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس کامیاب اور تاریخی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔