بلوچستان میں 4 مختلف مقامات قلات ،حب،تربت شہر اورتجابان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کیخلاف مین شاہراہوں پراحتجاجی دھرنے جاری ہیں جس سے ہر طرح کی آمد ورفت معطل ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
جبکہ تربت شہر میں مکمل شٹرڈائون وپہیہ جام ہڑتال ہے ،سڑکیں ٹائر جلا کر بند کردیئے گئے ہیں اور حب چوکی میں بھوانی کے مقام پر جاری دھرناگاہ سے آج دوپہر کوایک احتجاجی ریلی نکالی جائےگی ۔
قلات میں آج چوتھے روز سے کراچی کوئٹہ مرکزی شاہراہ پر دھرنا جاری ہے۔

جبری لاپتہ اختر شاہ کے بازیابی کیلئے جاری دھرنے میں خواتین، بچے، بزرگ، اور بیمار افراد شامل ہیں جو یخ بھری سردی میں اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے بیٹھے ہیں۔
روڈ کی بندش سے ٹریفک مکمل معطل ہے اور مسافرپھنسے ہوئے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ بھی سردی اور مشکلات سے دوچار ہیں لیکن ریاست کی بے حسی نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ روڈ بند کر کے احتجاج کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر دھرنا ختم نہ کیا گیا تو خواتین فورس کے ذریعے شاہراہ کھلوائی جائے گی۔
لیکن دوسری جانب مظاہرین ڈٹے ہوئے ہیں کہ چاہے لاٹھی چارج ہو یا گرفتاریاں، جب تک سید اختر شاہ کو بازیاب نہیں کیا جاتا، دھرنا جاری رہے گا۔
حب اور تجابان میں لاپتہ صحافی و طالب علم زبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کیخلاف دودنوں سے شاہراہوں پر لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دھرنے جاری ہیں جس سے ٹریفک مکمل معطل ہے۔
اسی طرح تربت شہر میں ظریف بلوچ کی ماورائے عدالت قتل کیخلاف لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے انصاف کے حصول کیلئے شہید فدا چوک پر دھرناجاری ہے جبکہ شہر میں مکمل شٹرڈائون اور پہیہ جام ہڑتال ہے۔

شہر بھر میں کاروباری مراکز بند ہیں اور مظاہرین نے راستوں پر ٹائر جلا کر انہیں ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا ہے۔
یاد رہے کہ ظریف بلوچ ضلع کیچ کے علاقے دازن تمپ سے تعلق رکھتے تھے جنہیں انکے ورثاء کے مطابق ایک ریڈ کے دوران سیکورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا جس کے بعدانہیں ان کی تشدد زدہ نعش موصول ہوئی تھی۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ ظریف بلوچ کو فورسز نے حراست کے دوران قتل کیا جس پر وہ انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لسبیلہ کے علاقے حب سے جبری گمشدگی کے شکار صحافی وطالب علم زبیر بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف حب بائی پاس پر لواحقین کا دھرنا جاری ہے۔

سندھ بلوچستان قومی شاہراہ بند ہونے سے ہزاروں گاڑیاں اور مسافر دونوں اطراف پھنس گئے ہیں، حکام مظاہرہن کیساتھ بامعنی مذاکرات کرنے میں ناکام ہیں۔
زبیر بلوچ جامعہ بلوچستان کے گریجویٹ ہیں جنکا بنیادی تعلق ضلع کیچ کے علاقے تجابان سے ہے، جنکی باحفاظت بازیابی کے لئے حب چوکی کے علاوہ آبائی گاؤں تجابان میں دھرنا دیا گیا ہے، اور سی پیک شاہراہ بند ہے۔

بی وائی سی ترجمان کا کہنا ہے کہ زبیر بلوچ کی گمشدگی کے خلاف آج بروز پیر سہ پہر 2:30 بجے دھرنا گاہ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔
انھوں نے کہاہے کہ اس وقت حب کے شہر میں شاہ پمپ کے مقام پر دھرنا جاری ہے، ہم قریب و نزدیکی علاقوں کے رہائشی بلوچ قوم سمیت ہر انسانیت کا درد رکھنے والے افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ٹھٹھرتی سردی میں غمزدہ خاندانوان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اپنا انسانی و قومی فریضہ ادا کریں۔

دوسری جانب بی وائی سی کے رہنما صبغت اللہ شاہ جی نے ایک جاری ویڈیو بیان میں عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ بی وائی سی کیچ زون کی جانب سے شہید فدا چوک پر جاری دھرنے میں شہید ظریف عمر و شہید نوید حمید کی اہلخانہ دھرنے میں موجود انصاف کے منتظر ہیں۔
انھوں نے کہاہے کہ جاری دھرنوں میں شرکت کرکے ثبوت دیں کہ بلوچی غیرت زندہ ہے، دشمن کو دکھائیں کہ بلوچ قوم متحد ہے، ہماری کامیابی ہی قومی اتحاد ہے وگرنہ زند گی بے معنی ہے۔
شاہ جی نے کہاہے کہ تمھاری ماؤں، بہنون بھائیوں اور بزرگوں کی آنکھیں تمھیں دیکھ رہی ہیں، اپنی باری کا انتظار مت کریں، قوم کا ہر لاپتہ فرد ہمارا اپنا ہی خون ہے۔