بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل جیمڑی کے گاؤں پانوان گذشتہ شب سے پاکستانی فوج نے محاصرے میں لیا ہواہے۔
اطلاعات ہیں کہ درجنوں افراد حراست میں لیے گئے ہیں جن میں اب تک 8 افراد کی شناخت اور گرفتاریوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔
جبکہ اس سے قبل ہمارے پاس اطلاعات آئی تھیں کہ 15 افراد گرفتاری کے بعد لاپتہ کئے گئے تھے ۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ شب سے گاؤں محاصرے میں ہے ، فوج گھر گھر تلاشی لے رہی ہے اور کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اب تک کم ازکم 8 افراد کو فوج نے حراست میں لیا ہے جن میں صمید ، زھیر ولد حسن ، عمران ولد محمد ، حسن ولد عزیز ، پیرجان ، لیاقت سروزی اور اس کا ایک بیٹا شامل ہیں۔
زمینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک فوج گاؤں میں موجود ہے اور کوہ سر بازار ( حاجی فیض میتگ ) میں تلاشی لے رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے گرفتاریوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی فوج گرفتاریوں کے بعد زیرحراست افراد کو جبری لاپتہ کرتی ہے اور لواحقین کو ان کے بارے میں کسی بھی طرح کے معلومات فراہم نہیں کیے جاتے۔
گائوں پانوان کی فوجی محاصرہ اور 8 افراد کی گرفتاری سے قبل گذشتہ دنوں تحصیل جیونی میں 2 مقامات پر پاکستان کوسٹ گارڈ کو عسکریت پسندوں نے نشانہ بنایا تھاجس کے ردعمل میں پورے تحصیل میں سیکورٹی الرٹ کردی گئی ہے اور گھر گھر تلاشی وگرفتاری وگمشدگیوں کا عمل جاری ہے۔
مذکورہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔