افغانستان و پاکستانی فورسز مابین جھڑپیں،دونوں طرف ہلاکتوں کے دعوے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنے والی ڈیورنڈ لائن پر مختلف مقامات پر افغان و پاکستانی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں جس سے ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

— افغانستان کی طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں سرحدی جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق طالبان نے پاکستانی سرحدی فورسز کے خلاف کارروائیوں کو جوابی آپریشن کا نام دیا ہے۔

طالبان حکام کے مطابق پاکستان سے متصل صوبہ پکتیا اور خوست کے اضلاع دانِ پٹھان اور علی شیر کے سرحدی علاقوں میں ہونے والی کارروائی میں سرحد پار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

طالبان کے نائب وزیرِ خارجہ اور وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ شر پسند عناصر کے ٹھکانوں اور ان کے حامیوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

واضع رہے کہ افغان طالبان داعش خراساں کے لیے” شر پسند عناصر ” ایسے حوالہ جات کا استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان کے حامی میڈیا آؤٹ لیٹس کا کہنا ہے کہ ہفتے کی علی الصباح تقریباً چار بچے آپریشن شروع ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

افغانستان کے مقامی ریڈیو حریت نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے دوران پاکستان کے 19 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں جب کہ سرحد پر لڑائی اب رک چکی ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان کے سیکیورٹی ذرائع نے وائس آف امریکہ کو تصدیق کی ہے کہ طالبان نے سرحد پر چار پاکستانی سیکیورٹی پوسٹوں اور دیگر تنصیبات پر حملے کیے جس پر جوابی کارروائی کی گئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پاکستان فوج کے مطابق ’’ فتنہ الخوارج گروپ ‘‘ ( پاکستانی فوج عموماً تحریک طالبان پاکستان کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرتی ہے) نے افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں کا استعمال کیا اور پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔’’ ابتدائی طور پر، اس گروپ کے 20 سے 25 افراد نے کرم اور شمالی وزیرستان کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔‘‘

پاکستانی فوج نے مزید کہا 28 دسمبر کی صبح، فتنہ الخوارج کے اراکین نے دوبارہ افغان طالبان کی چوکیوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران طالبان اور فتنہ الخوارج نے پاکستانی چوکیوں پر بلا خوف و خطر فائرنگ کی۔

فوجی حکام کے مطابق، پاکستانی فورسز نے ’’ فتنہ الخوارج ‘‘ اور افغان طالبان کے 15 افراد کو ہلاک اور کئی دیگر کو زخمی کر دیا۔

دونوں ملکوں کی سرحد پر یہ جھڑپیں ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب پاکستان کی جانب سے منگل کو افغان صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں فضائی کارروائی کی گئی تھی جس میں افغان طالبان کے مطابق 40 سے زائد خواتین و بچے ہلاک ہوئے تھے جن میں بیشتر پاکستانی مہاجرین تھے۔

افغان کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں دھمکی دی تھی کہ پکتیکا حملے کا جواب دیا جائے گا۔

Share This Article