بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6148ویں روز میں داخل ہوگیا۔
وی بی ایم پی نے 11 سال کے بعد رفیق کی بازیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کمیشن سے دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کی امید کی ہے۔
آج وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جبری لاپتہ افراد کے کیسز کے حوالے سے کمیشن کے ڈپٹی رجسٹرار عبد الحمید سے ملاقات کی۔
ملاقات میں جبری لاپتہ طالب علم رہنما شبیر بلوچ، نسرینہ بلوچ اور ذیشان کے کیسز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ شبیر بلوچ کا کیس سماعت کے لیے کمیشن کے سامنے پیش نہیں کیا جا رہا، جبکہ نسرینہ بلوچ کے کیس پر اعتراض لگا کر اسے واپس تنظیم کو بھیج دیا گیا تھا۔ اسی طرح ذیشان کے کیس کو چار ماہ گزرنے کے باوجود بھی سماعت کے لیے نمبر نہیں دیا جا رہا۔
ملاقات کے دوران نصراللہ بلوچ نے تینوں کیسز کو فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر کمیشن کے ڈپٹی رجسٹرار نے یقین دہانی کرائی کہ نسرینہ بلوچ اور ذیشان کے کیسز کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا، جبکہ شبیر بلوچ کے کیس کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسے کس بنیاد پر بند کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیس کے حوالے سے پیش رفت سے وی بی ایم پی کو آگاہ کیا جائے گا اور اسے دوبارہ ملکی آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔
چیئرمین نصراللہ بلوچ نے امید ظاہر کی کہ کمیشن نہ صرف ان کیسز کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرے گا بلکہ تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گا۔
لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائی گئی کمیشن کے ڈپٹی رجسٹرار نے آج دوران ملاقات وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ کو آگاہ کیا کہ کمیشن نے 5 فروری 2015 کو صورت پلازہ، بالمقابل بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ سے جبری لاپتہ ہونے والے رفیق ولد عمر، سکنہ زعمران (بلیدہ، تربت) کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ رفیق 21 اپریل کو بازیاب ہو کر بحفاظت اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔
اس موقع پر چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ 11 سال بعد رفیق کی باحفاظت بازیابی ایک مثبت پیش رفت ہے، جسے ہم سراہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام متاثرہ خاندان کے لیے بڑی راحت کا باعث ہے، جو طویل عرصے سے اذیت اور بے یقینی کا شکار تھا۔
انہوں نے مزید امید ظاہر کی کہ کمیشن اسی طرح دیگر جبری لاپتہ افراد کی بازیابی میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گا تاکہ مزید خاندانوں کو اس طویل کرب اور ذہنی اذیت سے نجات مل سکے۔