خدیجہ بلوچ کی بازیابی کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس (BMC) کے باہر جاری دھرنا آج چھٹے روز میں داخل ہوگیا ہے۔
مسلسل چھ دن گزر جانے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے مطابق انتظامیہ کی یہ خاموشی محض غفلت نہیں بلکہ ایک "سوچی سمجھی پالیسی” ہے، جو خدیجہ بلوچ کی حراست اور ریاستی جبر کو تقویت دیتی ہے۔
خدیجہ بلوچ کے اہلِ خانہ گزشتہ چھ روز سے شدید ذہنی و جذباتی اذیت میں مبتلا ہیں اور مسلسل احتجاج کے ذریعے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ جب تک جبری گمشدگیوں کے اس سلسلے کو روکا نہیں جاتا، انصاف ممکن نہیں۔
آج منعقدہ پریس کانفرنس میں خدیجہ بلوچ کے والد نے ایک بار پھر حکام سے اپیل کی کہ ان کی بیٹی کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اسے 28 اپریل کو ہونے والے اپنے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا تو خاندان آئندہ پریس کانفرنس میں مزید سخت اقدامات کا اعلان کرے گا۔
دوسری جانب بلوچ وومن فورم (BWF) نے بھی تمام لاپتہ بلوچ خواتین، بشمول خدیجہ بلوچ، کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
بی ڈبلیو ایف کے مطابق یہ ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے شفافیت، جوابدہی اور فوری حکومتی اقدام ناگزیر ہیں۔