تعلیمی اداروں کی تباہ حالی حکومتی دعوؤں کی نفی کرتی ہے، بی ایس او کی مطالعاتی نشست

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے زیرِ اہتمام پولی ٹیکنک کالج ہاسٹل سریاب میں ایک اہم مطالعاتی نشست منعقد ہوئی، جس میں بلوچستان کی موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال کے ساتھ ساتھ صوبے کے تعلیمی شعبے کو درپیش سنگین مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

نشست میں بالخصوص ٹیکنیکل اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی زبوں حالی، حکومتی بے حسی، طلبہ دشمن پالیسیوں اور محض اعلانات تک محدود سرکاری دعوؤں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ حکومت ہر دور میں تعلیم کی بہتری، جدید سہولیات کی فراہمی، تعلیمی اصلاحات، اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے بلند و بانگ دعوے کرتی آئی ہے۔ سرکاری بیانات، پریس ریلیزز اور سوشل میڈیا مہمات میں تعلیمی ترقی کی ایک خوشنما تصویر پیش کی جاتی ہے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر تعلیمی ادارے آج بھی بنیادی سہولیات، معیاری تدریس، جدید لیبارٹریوں، لائبریریوں، اور مناسب رہائشی سہولیات سے محروم ہیں۔

نشست میں کہا گیا کہ پولی ٹیکنک کالج ہاسٹل سریاب کی موجودہ خستہ حالی حکومت کے تمام تر دعوؤں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ہاسٹل کی بوسیدہ عمارت، بنیادی سہولیات کا فقدان، صفائی اور مرمت کے ناقص انتظامات، اور طلبہ کو درپیش روزمرہ مشکلات واضح کرتی ہیں کہ حکومتی ترجیحات میں تعلیم اور طلبہ کہیں شامل نہیں۔ اگر واقعی ترقیاتی منصوبے جاری ہیں تو ان کے اثرات تعلیمی اداروں میں کیوں دکھائی نہیں دیتے؟

مقررین نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ حکومت بلوچستان تعلیمی مسائل کے حل کے بجائے میڈیا اور سوشل میڈیا پر تشہیری مہمات چلانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ اعلانات، تصویری نمائش، اور نمائشی دوروں کے ذریعے عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تعلیمی شعبے میں انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں تعلیمی ادارے بدحالی، وسائل کی کمی، اور انتظامی غفلت کا شکار ہیں۔

مطالعاتی نشست میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، آزاد علمی ماحول، اور صحت مند طلبہ سیاست سے محروم رکھنا ایک منظم پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ طلبہ سیاست پر غیر جمہوری پابندیاں، طلبہ کو ہراساں کرنا، اور مختلف انتظامی ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کی آواز دبانا ناقابلِ قبول ہے۔ ایک باشعور اور منظم طلبہ ہی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔

شرکاء نے واضح کیا کہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔ صوبے کے اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں، ٹیکنیکل ادارے اور ہاسٹلز مجموعی طور پر حکومتی نااہلی اور عدم توجہی کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل، علمی ترقی، اور قومی تعمیر کے امکانات کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

نشست کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان کے طلبہ اپنے تعلیمی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نمائشی اعلانات اور سوشل میڈیا مہمات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے، تعلیمی اداروں کی بحالی یقینی بنائے، اور طلبہ کو ایک محفوظ، معیاری اور آزاد تعلیمی ماحول فراہم کرے۔ بصورت دیگر، طلبہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

Share This Article