بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں آج ظریف بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال ہے جبکہ آسیا باد کے قریب ورثا کا میت کے ساتھ دھرنا جاری ہے۔
ورثاکا کہنا ہے کہ ظریف بلوچ کی لاش کوپوسٹ مارٹم کی غرض سے وہ تمپ سے تربت شہر کیلئے روانہ ہوئے لیکن پاکستانی فورسز نے انہیں آسیاباد کے نزدیک تمپ کلاہو کراس پر روک دیا ہے جس پر ورثا نے ادھر ہی روڈ بلاک کرکے دھرنا دیدیاہے ۔
گذشتہ شب جب ظریف بلوچ کی لاش برآمد ہوگئی تو ورثا نے فیصلہ کیاتھاکہ وہ انصاف کیلئے تربت شہر جائیں گے ۔اور قافلے کی شکل میں وہ تربت شہر کیلئے نکل گئے لیکن انہیں راستے میں روک دیا گیا اوردھرنا گذشتہ رات سے جاری ہے۔
جبکہ فورسز نے تربت شہر جانے والے تمام راستے بند کردیئے ہیں۔اور سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔
دھرنے سے ٹریفک مکمل جام ہوگئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
دھرنے میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک ہے ۔
مقتول ظریف بلوچ کی صاحبزادی کا کہنا ہے کہ فورسز نے گذشتہ شب گھر پر دھاوا بول کرخواتین کو کمروں میں بند کردیا اوروالد کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے اور بعدازاں اسے قتل کرکے اس کی لاش پھینک دی گئی ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ میرے والد کو شدید تشدد کا نشانہ بنا کر اسے زہر کا انجکشن لگایا گیا ہے جس سے اسکی موت واقع ہوگئی ہے۔
واضع رہے کہ جس رات ظریف بلوچ کو فورسز نے اس کے گھر پر دھاوابول کر جبری لاپتہ کیا تھا اسی شب بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل یف نے فورسز پر حملے کیا تھا ۔
بی ایل ایف نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ فورسز نے حملے کے ردعمل میں ایک معصوم شہری کو حراست میں لیکر لاپتہ کرنے کے بعد قتل کردیا ہے۔
اب تک بلوچستان بھر میں فورسز کی جعلی کارروائیوں میں ماورائے عدالت قتل کے متعدد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔