بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں تمپ میںپاکستانی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے چھبیس دسمبر بروز جمعرات رات ساڑھے نو بجے کیچ کے علاقے تمپ گریڈ اسٹیشن میں قائم قابض پاکستانی فوجی چوکی کو راکٹ لانچروں اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بناکر دشمن فوج کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ راکٹ کے گولے چوکی کے اندر گرے جس سے چوکی کے اندر آگ بھڑک اٹھی جس سے قابض فورسز کے خیموں اور گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ حملے کے بعد شکست خوردہ قابض فورسز نے علاقے کو سیل کرکے لوگوں کو ہراساں کیا، جب کہ گھروں پر چھاپے بھی مارے، اسی دوران قابض فورسز نے ظریف ولد نزیر کو حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قابض فورسز ہمیشہ کی طرح سرمچاروں کے شدید حملوں کے بعد عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہے تاکہ بلوچ عوام کو سرمچاروں کی حمایت سے روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد سرمچار بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔
آخر میں بیان میں کہاگیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور قابض پاکستانی فوج کے انخلاء تک اپنے حملے جاری رکھیں گی۔