پاکستانی خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران چارچ شیٹ کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق رواں برس 12 اگست کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی تھی اور اب ان کے خلاف باضابطہ طور پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے اور اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنے کے الزامات پر چارج شیٹ فائل کر دی گئی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ تفتیش بھی کی جا رہی ہے، ان پرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کے خلاف یہ بھی شامل تفتیش ہے کہ انھوں نے ’مذموم سیاسی عناصر کی ایما اور ملی بھگت‘ سے پرتشدد واقعات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو قانون کے مطابق تمام قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قانونی امور کے ماہر شاہ خارو نے کہا کہ پاکستانی فوج کے بیان کا مطلب یہی ہے کہ سابق فوجی جنرل فیض حمید پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
’اس عمل میں عدالت میں کسی بھی ملزم کے سامنے چارج شیٹ پیش کی جاتی ہے کہ آپ پر یہ الزامات ہیں اور یہ پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ جرم قبول کرتے ہیں یا صحت جرم سے انکار کرتے ہیں۔ انکار کی صورت میں ملزم کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک سابق فوجی افسر نے کہا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے طریقہ کار کے مطابق اب جب لیفٹیننٹ جنرل ر فیض حمید کو چارج شیٹ پڑھ کر سنا دی گئی ہے تو ’اب اگلے مرحلے میں ان کا ٹرائل شروع ہو گا، ان پر لگے الزامات پر جرح ہو گی اور اس دوران انہیں وکیل کی سہولت بھی حاصل ہو گی۔‘
’ان پر الزامات ثابت ہونے کی صورت میں، جن میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی بھی شامل ہے، سخت سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔‘