بلوچستان سمیت پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوامیں پاکستانی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
عسکریت پسندوں کے تازہ ترین حملوں میں پاک فوج کے 2 اور پولیس کے 3 اہلکار ہلاک ہوگئے جن میںکیپٹن وانسپکٹر شامل ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضلع بنوں کے علاقے بکاخیل میں آپریشن کے دوران 5 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق دوسری کارروائی ضلع خیبر میں کی گئی، 3 ہلاک ہوئے جب کہ 2 کو گرفتار بھی کیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آپریشنز کے دوران فوج کے 2 اہلکار ہلاک ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ ضلع خیبر میں آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ کیپٹن محمد ذوہیب الدین ہلاک ہوگیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ضلع بنوں کے علاقے بکاخیل میں کیے گئے آپریشن کے دوران پنجاب کے ضلع جھنگ کے رہائشی 29 سالہ سپاہی افتخار حسین بھی ہلاک ہوا۔
دوسری جانب لکی مروت کے علاقے پہاڑ خیل پکا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس کے سب انسپکٹر سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے، فائرنگ غزنی خیل تھانے کی حدود میں ہوئی۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے گاؤں کے قبرستان کے قریب پولیس اہلکار قدیر خان پر حملہ کیا اور فرار ہوگئے۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے قدیر خان موقع پر ہی دم توڑ گئے، جب کہ اس حملے میں دو دیہاتی عبدالحکیم اور ان کا بیٹا رفیع اللہ شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
پولیس کے مطابق ہلاک پولیس اہلکار سب انسپکٹر تھا اور اس وقت فیصل آباد میں تعینات تھا، وہ چھٹی پر اپنے گاؤں آئے تھے، حملے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔
پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔