بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل (بی این پی-ایم) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرقیادت وفاقی حکومت سے راہیں جدا کرنے کے بارے میں اپنے فیصلے کے اعلان کے ایک روز بعد پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔
حکومتی اتحاد چھوڑنے کے بعد پارٹی کے ساتھ حکومت کی طرف سے پہلا باضابطہ رابطہ کیا گیا جس میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے بی این پی-ایم کے سربراہ سردار اختر مینگل سے ملاقات کی۔
ذرائع نے بتایا کہ سردار اختر مینگل کی حمایت کے لیے ایک بلوچ رہنما کی حیثیت سے صادق سنجرانی نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے انہیں ایک پیغام پہنچایا۔
انہوں نے اختر مینگل کو یہ بھی بتایا کہ کمیٹی جلد ان سے ملاقات کرے گی۔
بی این پی – ایم کے سربراہ کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے اپنے موقف پر قائم رہنے کا کہا اور کہا کہ وہ اب کچھ نہیں کرسکتے۔
سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ’میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا تھا اور گیند اب حکومت کی عدالت میں ہے‘۔
اس پر چیئر مین سینیٹ نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ مذاکراتی کمیٹی کو ان کا پیغام پہنچائیں گے اور کہا ‘ہم آپ کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں‘۔
انہوں نے بلوچستان سے درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے ایک دن قبل قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد چھوڑنے کے اپنے اعلان کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی تحریک انصاف سے نہیں تھے بلکہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی سے وابستہ تھے جو حکمران اتحاد کا ایک حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اس مسئلے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ پارٹی کے نظریات کے تحت لیا گیا ہے اور مجھے ذاتی حیثیت میں اس کو تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں انہوں نے صادق سنجرانی سے حکومت سے یہ سوال کرنے کو کہا ہے کہ ماضی میں کیے گئے وعدے کیوں پورے نہیں ہوسکتے ہیں اور مسائل حل کیوں نہیں ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔
واضح رہے کہ اگست 2018 میں تحریک انصاف اور بی این پی-ایم نے وفاق میں مخلوط حکومت بنانے کے لیے چھ نکاتی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
ان چھ نکات میں لاپتہ افراد کی بازیابی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، وفاقی حکومت میں بلوچستان کے لیے چھ فیصد کوٹے پر عمل درآمد، پانی کی شدید قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے افغان مہاجرین کی فوری وطن واپسی اور صوبے میں ڈیموں کی تعمیر شامل ہیں۔
بی این پی ایم اس وقت سے ہی معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کررہی ہے۔
گذشتہ سال جون میں سردار اختر مینگل نے پہلی بار دھمکی دی تھی کہ اگر مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ اتحاد چھوڑ دیں گے۔