بلوچستان سے پاکستانی فورسز ہاتھوں مزید متعدد افراد کی جبری گمشدگیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے اطلاعات ہیں کہ آج صبح فورسز نے چھاپہ مارکر متعدد افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
ابھی تک لاپتہ ہونے والے تین افراد کی شناخت ڈاکٹر ظفر ولد محمد رحیم، رحیم جان ولد ڈاکٹر ظفر اور ڈاکٹر محمد کریم ولد بہرام کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق فورسز نے اس دوران ڈاکٹر ظفر کے مہمان خانے سے مزید پانچ مہمانوں کو بھی حراست میں لیا ہے جن میں ایک کی شناخت جبار کے نام سے ہوئی ہے دیگر کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہوسکی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان کے علاوہ بھی فورسز نے علاقے سے مزید لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ جن کے حوالے سے تفصیلات آنا باقی ہے۔
اسی طرح ڈیرہ بگٹی اور برکھان سے گذشتہ شب فورسز نے 3 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ کیے جانے والوں کی شناخت پیر محمد ولد پانو بگٹی ،دنگلا ولد حاجی موج بگٹی اور رشید احمد کھیتران ولد ماسٹر گل محمد جان بگائو کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ پیر محمد کو تیسری مرتبہ فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل دو دفعہ پہلے انہیں اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بناکر اور پھر رہا کردیا گیا۔
دوسری جانب بارکھان سے بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فورسز نے ستائیس نومبر کو رشید احمد کھیتران ولد ماسٹر گل محمد جان بگاو کو حراست میں لیا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
مذکورہ شخص پاکستانی فورسز اس وقت گاڑی سمیت حراست میں لیا ہے جب وہ ڈیرہ غازی خان سے بارکھان جارہا تھا۔