کوئٹہ : جبری گمشدگی کیخلاف احتجاجی کیمپ جاری،لاپتہ علی اصغر کی لواحقین کا وی بی ایم پی سے رابطہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں  کے خلاف دنیا کی طویل ترین احتجاجی کیمپ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی )کے زیر اہتمام جاری ہے ۔جہاں ضلع گوادر کے تحصیل جیونی پانوان سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے علی اصغر کی لواحقین نے تنظیم سے رابطہ کرکے ان کی تفصیلات حوالے کردیئے۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6137ویں روز بھی نیاز محمد کی سربراہی میں جاری رہا۔

آج کامریڈ منظور احمد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر کہا گیا کہ جبری گمشدگیاں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے مسلسل اذیت ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے کہا کہ ریاست آئینی طور پر پابند ہے کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اگر کسی پر الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کر کے شفاف قانونی کارروائی کی جائے۔

مطالبہ کیا گیا کہ جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کی ماورائے عدالت قتل کے سلسلے کا مکمل سدباب کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائیں جائیں۔

دوسری جانب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے ضلع گوادر کے تحصیل جیونی کے علاقے پانوان سے علی اصغر ولد نور محمد کی جبری گمشدگی کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی ہے۔

لواحقین نے وی بی ایم پی کے جنرل سیکرٹری حوران بلوچ سے رابطہ کرکے بتایا کہ انہیں رات کے وقت سیکورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، جبکہ تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی۔ اس صورتحال کے باعث اہلخانہ شدید ذہنی کرب اور اضطراب کا شکار ہیں۔

حوران بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور آئینِ پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر علی اصغر پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے علی اصغر سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کراکے ان کے اہلخانہ کی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔

وی بی ایم پی نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علی اصغر کو فوری طور پر منظر عام پر لاکر ان کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اگر ان پر کوئی الزام ہے، تو انہیں عدالت میں پیش کرکے قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔

Share This Article