وی بی ایم پی نے جبری لاپتہ محمد صدیق لانگو کے کیس کو باضابطہ طور پر بلوچستان حکومت اور لاپتہ افراد کے کمیشن کے حوالے کر دیا ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ محمد صدیق لانگو کا کیس کمیشن آف انکوائری برائے جبری گمشدگیاں (اسلام آباد)، صوبائی وزیر داخلہ، ہوم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان اور کمیشن کے بلوچستان چیپٹر کے ڈپٹی رجسٹرار کو فراہم کر دیا گیا ہے تاکہ فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ محمد صدیق لانگو کی فوری اور باحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ خاندان کو اس اذیت ناک غیر یقینی صورتحال سے نجات دی جائے۔
لواحقین کے مطابق، محمد صدیق لانگو کو 7 اپریل کی رات 12 بجے کلی اسماعیل سے بغیر کسی وارنٹ کے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد سے نہ تو ان کی گرفتاری کی وجوہات بتائی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی خیریت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
وی بی ایم پی نے خبردار کیا ہے کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ قانون کی بالادستی پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔