طلباء الائنس یونیورسٹی آف بلوچستان نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان انتظامیہ کی جانب سے ہاسٹلز کی غیر اعلانیہ بندش نے ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ شدید ذہنی، مالی ، ریاہشی اور تعلیمی مشکلات کا شکار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک طرف انتظامیہ طلبہ کے اس بنیادی مسئلے کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے دوسری طرف یونیورسٹی کے اپنے وضع کردہ رولز کے مطابق کلاسز شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل ہاسٹلز کھولنا لازم ہے تاکہ دور دراز علاقوں سے آئے طلبہ اپنی حاظری یقینی بنائے۔ مگر یہاں قانون کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے کلاسز کو شروع ہوئے دو ہفتے گزر چکے، مگر ہاسٹل کے دروازے تاحال طلبہ پر بند ہیں۔ یہ یونیورسٹی انتظامی کی نا اہلی نہیں طلبہ کے تعلیمی قتل ہے۔
الائنس کے مطابق یونیورسٹی آف بلوچستان انتظامیہ اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے طلبہ کو مزید اذیت میں دھکیل رہی ہے بایومیٹرک اور ری الاٹمنٹ کے نام پر طلبہ کی تذلیل کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے یہ بہانے بازی اور تاخیری حربے مزید برداشت نہیں کیے جائیں گے آن لائن حاضری فی الفور ختم کیا جائے جب تک تمام طلبہ کو ہاسٹل میں رہائش نہ ملے۔
بیان میں کہا گیا کہ بشرطِ اگر کل (12:00) ہاسٹل فوری نہ کھولے گئے تو طلبہ اپنے حق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ کلاسز کا بائیکاٹ اور انتظامی بلاک کے سامنے دھرنا ہمارا اگلا لائحہ عمل ہوگا۔ اس کے بعد پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال کی ذمہ دار صرف اور صرف یونیورسٹی آف بلوچستان انتظامیہ ہوگی۔