پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے دعوی کیا ہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف ریاستی آپریشن میں 20 پی ٹی آئی سپورٹرز ہلاک ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 8 کے مکمل کوائف موجود ہیں دیگر کوائف میڈیا کو دے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کارکنوں کو سیدھی گولیاں اور شیل مارے گئے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس قتل و غارت کے بعد اسلام آباد کے اسپتالوں کو لواحقین کا ریکارڈ نہ دینے کا کہا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ منگل کی شب اسلام آباد کے ڈی چوک پر پی ٹی آئی کا احتجاج جاری تھا۔ اس دوران انتظامیہ نے مظاہرین کے خلاف ’فیصلہ آپریشن‘ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کے ہی ایک رہنما زلفی بخاری نے 40 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مانسہرہ میں پی ٹی آئی کے کارکنان سے اپنے خطاب میں کہا کہ اس احتجاج میں سینکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔
زلفی بخاری نے کہا ہے کہ سلمان اکرم راجا حقائق سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔
انھوں نے اسرار کیا کہ پی ٹی آئی کے ہلاک ہونے والے کارکنان کی تعداد 40 ہی بنتی ہے۔
اسلام آباد میں احتجاج میں ہلاک ہونے والے تحریک انصاف بلوچستان کے کارکن احمد ولی کاکڑ کی لاش کی تدفین پشین میں کردی گئی۔
ان کی لاش اسلام آباد سے پشین پہنچائی گئی تھی۔
تحریک انصاف بلوچستان کے ترجمان آصف ترین نے بتایا کہ احتجاج میں مبینہ طور پر رینجرز اور پولیس کی فائرنگ سے پی ٹی آئی بلوچستان کے دو کارکنوں کی ہلاکت ہوئی، جن میں سے احمد ولی کا تعلق ضلع کوئٹہ سے متصل پشین سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ احمد ولی کی لاش کو دوپہر کو پشین پہنچائی گئی جہاں ان کے آبائی قبرستان میں ان کی تدفین کی گئی۔
پشین پہنچنے سے پہلے تحریک انصاف کے کارکنوں اور علاقہ مکینوں نے اس ایمبولینس کا استقبال کیا جس میں احمدولی کاکڑ کی لاش پہنچائی گئی۔ استقبال کے لیے کھڑے کارکنوں نے ایمبولینس پر پھول کی پھتیاں نچھاور کیں۔ بعد میں ایمبولینس کو جلوس کی شکل میں احمد ولی کے گھر پہنچایا گیا۔ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کی تدفین کلی بسو پشین میں کی گئی۔