آوارن: لاپتہ دلجان کی بازیابی کیلئے جاری دھرنے کو سبوتاژ کرنے کیلئے لیڈیز کانسٹیبلز طلب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع آواران میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار دلجان بلوچ کی بازیابی کیلئے لواحقین کا دھرنا گذشتہ 8 دنوں سے جاری ہے۔لیکن ریاست کی جانب سے دھرنے کو سبوتاژ کرنے کیلئے گڈانی سے لیڈیز کانسٹیبلز طلب کر لئے گئے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ 8 دنوں سے جاری دھرنے کے باوجود کوئی سننے والا نہیں ہے۔ سب نے اندھے قانون میں رہ کر خود کو اندھا کر لیا ہے۔ اس دھرنے میں بزرگ، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ بار بار ایک ہی بات دھرا رہی ہے کہ دھرنے میں بیٹھنا violence ہے ۔ یہ کیسا قانون ہے؟ آپ نے یہ الفاظ اس وقت کیوں نہیں کہے جب وہ ہمارے گھر بغیر کسی وجہ کے آئے اور ہمارے بھائی کو بغیر کسی جرم کے اٹھا کر لے گئے؟ اس وقت آپ کا قانون کہاں تھا ۔لیکن نہیں، آپ کو صرف یہاں مظلوم کی پکار violence نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ اگر دلجان کا کوئی قصور ہے تو آپ اسے عدالت میں پیش کریں، آپ اس کے بارے میں تحقیقات کریں، لیکن نہیں، یہاں ظلم کی انتہاء ہو چکی ہے۔ کل رات انتظامیہ نے دھرنے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، اور اس دھرنے میں 5 یا 6 سال کے بچے بھی بیٹھے ہیں۔ یہاں کا قانون یہ ہے کہ ان بچوں کا بھی ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب لیڈیز کانسٹیبل گڈانی سے طلب کی گئی ہیں اور خدشہ ہے کہ دھرنے میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر کبھی بھی لاٹھی چارج کیا جا سکتا ہے۔ ہم اپیل کرتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیموں سے ہماری آواز بنیں اور ہمادے لئے آواز اٹھائیں۔ ہم حکومت بلوچستان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور دلجان کی بازیابی کو یقینی بنائیں ۔

اطلاعات ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ووائس فار بلوچ مسنگ پرسزن کے سیکر ٹری جنرل سمی دین بلوچ بھی دلجان بلوچ کی فیملی کی جانب سے اسکی بازیابی کیلئے جاری احتجاجی دھرنے میں شرکت کرنے کیلئے آواران پہنچ گئے ہیں ۔

تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment