بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی میں بلوچ طلبا کی جانب سے لگائے گئے کتب میلے پر پولیس نے دھاوا بول کر زبردستی ختم کرادیا۔
واضع رہے کہ بلوچستان بھر میں کتاب پڑھنے وخریدنے کے رجحانات میں بے پناہ اضافے سے پاکستان کے علمی ، ادبی وپبلشنگ حلقوں میں جہاں بلوچستان کے نوجوان نسل کیلئے ایک مثبت تاثرابھرا رہا ہے تو دوسری طرف ریاستی ادارے اس رجحانات کو پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
حب میں منعقدہ کتب میلے پر پولیس نے دھاوا بول کر زبردستی ختم کروایا۔
اس سلسلے میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مطابق حب پولیس نے کتب میلہ پر دھاوا بول کر زبردستی بُک اسٹال ختم کروادیا۔
مرکزی ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کہا کہ بساک حب زون کی جانب سے لسبیلہ پریس کلب کے سامنے لگائی دو روزہ کتب میلہ پر پولیس نے دھاوا بول کر وہاں موجود دوستوں کو ہراساں کرکے ان کی پروفائلنگ کی اور کتب میلہ کو زبردستی ختم کروایا دیا۔
https://twitter.com/BSAC_org/status/1860274232355164613
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف معاشرے کے بچے کتب خریدنے دوردراز سے آئے ہوئے تھے اور کتابیں خریدرہے تھے جبکہ دوسری جانب پولیس کتابوں کو زبردستی غنڈہ گردی سے ہٹوانا انتہائی افسوسناک و شرمناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج بُک اسٹال کا دوسرے دن پر پولیس کی بھاری نفری پریس کلب پر پہنچ کر کتب میلہ کو ختم کرنے پر مجبور کیا اور ان کو یہ کہہ کر زبردستی اسٹال ختم کراویا گیا کہ پریس کلب کے یہاں کتب میلہ لگانے کی اجازت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب پولیس آفیسر کو پوچھا گیا کہ کوئی لیٹر یا نوٹیفکیشن دکھا دیں جہاں یہ لکھا ہو، تو ان کا کہنا تھا کہ وہ خود لیٹر ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہی کتابیں پاکستان کے ہر شہر وا بک اسٹور پر آسانی دستیاب ہیں مگر بلوچستان میں کتب میلہ لگا کر علم پھیلانے پر قدغن ہے۔ یہ نہ صرف علم دشمنی ہے بلکہ یہ بلوچ علم دشمنی ہے، یہ ملک و سرکار نہیں چاہتی کہ بلوچ پڑھیں اور بلوچ معاشرے میں علم کی فضا قائم ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے زبردستی کتب میلہ کو ختم کروانے اور ایسے غنڈہ گرد و علم دشمن رویوں کی سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہیں، اور زمہ داران کو واضح کہنا چاہتے ہیں ہم بلوچستان میں علم کی روشنی پھیلانے کی جدو جدہ میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے ، بلوچستان کے کئی علاقوں میں کتابوں کے دکانوں پر چھاپہ مارکر فورسز نے متعددایسی کتابوں کوریاست مخالف مواد قرار دیکر ضبط کردیں جو پاکستان بھر میں دستیاب ہیں۔طلبا کے ہاسٹل و تعلیمی اداروں میں چھاپے مارے گئے اور کتابیں ہٹادی گئیں۔