بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آئندہ سالوں میں بجٹ پر سخت کنٹرول کی ضرورت ہے کیونکہ ملک میں ٹیکسوں سے جمع ہونے والے ریونیو کا 60 فیصد قرضوں پر سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی جاری کردہ ٹیکنیکل اسسٹنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو پبلک فسکل مینجمنٹ پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ملکی ریونیو کو بڑھانے کے لیے کام کرنا ہو گا۔
پاکستان کے نئے بجٹ پر آئی ایم ایف شرائط کس طرح اثر انداز ہوں گی اور عام فرد اس سے کیسے متاثر ہو گا؟
بین الاقوامی ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی قرضوں پر ادائیگی مالی سال 2017 سے لے کر اب تک دوگنا ہو چکی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی حکام کو مالی سال 2023 کے پرائمری خسارے کو مالی سال 2024 میں سرپلس میں لانے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی۔
ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ترقیاتی شعبے کے بجٹ میں کٹوتی کے باوجود حکومت کو اخراجات پر کنٹرول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔