ایمان مزاری وہادی علی کی گرفتاری ریاستی فسطائی پالیسی کا مظہر ہے،رحیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق جنرل سیکرٹری اور بلوچ رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے شوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ محترمہ ایمان زینب حاضر مزاری ایڈووکیٹ اور عبدالہادی ایڈووکیٹ کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج اور ان کی گرفتاری قانون اور اختیارات کی غلط استعمال کا ایک قابل مذمت عمل ہے۔ وہ دونوں کوئی مفرور مجرم نہیں ہیں جنھیں پولیس نے گرفتار کیا بلکہ قابل احترام شہری اور معروف وکلاء ہیں جو مقدمات کی پیروی میں روز عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔

https://twitter.com/RahimBalochh/status/1851258151800066228

ان کا کہنا تھا کہ دونوں کی گرفتاری در اصل ریاستی پالیسیوں کے ناقدین اور مخالفین کی آواز دبانے کی فسطائی پالیسی کا مظہر ہے، کیونکہ محترمہ ایمان مزاری انسانی حقوق کی پامالیوں، خصوصاً جبری گمشدگیوں کی ریاستی پالیسی کے خلاف ایک توانا آواز ہے جو نہ صرف سیاسی میدان اور میڈیا میں جبری گمشدگیوں کے ذمہدار ریاستی اداروں کو للکارتی رہی ہے بلکہ عدالتوں میں بھی انھیں گھسیٹتی رہی ہے۔

‏انہوں نے کہا ہے کہ اندازہ لگائیں کہ اسلام آباد جیسے شہر اقتدار میں محترمہ ایمان مزاری اور مسٹر عبدالہادی ایڈووکیٹ جیسے معروف شخصیات کو پولیس ایک بے بنیاد اور معمولی مقدمہ میں گرفتار کرکے ہراساں کرنے کی کوشش کرسکتی ہے تو مقبوضہ بلوچستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں، چھوٹے دیہاتوں اور قصبات میں پولیس، فوج، خفیہ ادارے اور ان کی تشکیل کردہ مسلح جتھے کیا کیا مظالم نہیں کرتے ہونگے۔

Share This Article
Leave a Comment