بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق جنرل سیکرٹری اور بلوچ رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے شوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ محترمہ ایمان زینب حاضر مزاری ایڈووکیٹ اور عبدالہادی ایڈووکیٹ کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج اور ان کی گرفتاری قانون اور اختیارات کی غلط استعمال کا ایک قابل مذمت عمل ہے۔ وہ دونوں کوئی مفرور مجرم نہیں ہیں جنھیں پولیس نے گرفتار کیا بلکہ قابل احترام شہری اور معروف وکلاء ہیں جو مقدمات کی پیروی میں روز عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں کی گرفتاری در اصل ریاستی پالیسیوں کے ناقدین اور مخالفین کی آواز دبانے کی فسطائی پالیسی کا مظہر ہے، کیونکہ محترمہ ایمان مزاری انسانی حقوق کی پامالیوں، خصوصاً جبری گمشدگیوں کی ریاستی پالیسی کے خلاف ایک توانا آواز ہے جو نہ صرف سیاسی میدان اور میڈیا میں جبری گمشدگیوں کے ذمہدار ریاستی اداروں کو للکارتی رہی ہے بلکہ عدالتوں میں بھی انھیں گھسیٹتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اندازہ لگائیں کہ اسلام آباد جیسے شہر اقتدار میں محترمہ ایمان مزاری اور مسٹر عبدالہادی ایڈووکیٹ جیسے معروف شخصیات کو پولیس ایک بے بنیاد اور معمولی مقدمہ میں گرفتار کرکے ہراساں کرنے کی کوشش کرسکتی ہے تو مقبوضہ بلوچستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں، چھوٹے دیہاتوں اور قصبات میں پولیس، فوج، خفیہ ادارے اور ان کی تشکیل کردہ مسلح جتھے کیا کیا مظالم نہیں کرتے ہونگے۔