بلوچستان کے علاقے قلات، خضداراو ر نوکنڈی میں فائرنگ ودیگر حادثے سے3 افراد ہلاک ہوگئے اور ایک کواغوا کرلیا گیا۔جبکہ قلات میں مقتول ومغوی کی اہلخانہ نے احتجاجاً شاہراہ بلاک کردیا۔
ضلع قلات کے علاقے چھپر میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔
واقعہ کے بعد ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین نے نعش کو قومی شاہراہ پر رکھ کر شاہراہ کو بلاک کردیا ۔
مظاہرین کے احتجاج کے باعث کوئٹہ کراچی شاہراہ گزشتہ 3 گھنٹے سے بلاک ہے ۔
مقتول کے لواحقین نے شہر آنے والے رابطہ سڑکوں کو بھی بلاک کردیا ہے۔
مرکزی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بندش کے باعث سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں مسافر پھنس چکے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد ایک دوسرے شخص کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ مغوی شخص کو بازیاب کرایا جائے اور مقتول کو انصاف فراہم کیاجائے۔
دوسری جانب گزشتہ روزخضدار کے زیدی جھری میں منگنی کی خوشی کے تقریب اس وقت ماتم میں بدل گئی جب ہوائی فائرنگ سے ایک لڑکی ہلاک اور ایک زخمی ہو گئی۔
مقتول غلام حسین غازی زئی کی بیٹی تھی جبکہ نذیر احمد ساسولی کی بیٹی واقعہ میں زخمی ہو گئی۔
عوامی حلقوں نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے حکام کو فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
علاوہ ازیں نوکنڈی میں ایک شخص بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا۔
نوکنڈی بازار کے عقب میں مارکیٹ میں تعمیراتی کام کےسلسلے میں محمد قاسم دوسرے چھت پر ٹیئر لیجاتے ہوئے بجلی کے مین تار پر ٹچ ہونے سے کرنٹ لگا جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگیا۔
محمد قاسم کا تعلق ضلع لودھر پنجاب سے ہے۔
لیویز نے لاش کو ضروری کارروائی کے بعد آبائی علاقے روانہ کردیا ۔