آئینی ترامیم کی حمایت کرنے والے پارٹی سینیٹرز آج ہی استعفی دیں ، اختر مینگل

ایڈمن
ایڈمن
11 Min Read

سربراہ بی این پی اختر مینگل نے سینیٹر نسیمہ احسان اور سینیٹر قاسم رونجھو کو مستعفی ہونے کی ہدایت جاری کی۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اختر مینگل نے لکھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی سینیٹر نسیمہ احسان اور سینیٹر قاسم رونجھو کو فوری استعفیٰ دینے کا حکم دیتی ہے، اگر کل تک استعفیٰ نہیں دیا تو دونوں سینیٹرز کو پارٹی سے برطرف کردیا جائے گا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی اختر مینگل نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرنے والے دو سینیٹرز آج استعفی دیں نہ دینے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ 26ویں آئینی ترامیم کے خلاف لائحہ عمل طے کرکے میدان بلوچستان ہوگا 26ویں آئینی ترامیم میں شامل لوگوں کا جنازہ جلد نکلے گا۔ بلوچستان میں ایک ہفتے میں 54افراد کو لاپتہ کیا گیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر ساجد ترین ایڈووکیٹ اختر حسین لانگواحمد نواز بلوچ موجود تھے ۔

اختر مینگل نے کہا ہے کہ سیاسی قیادت دن رات ایک کر کے انہوں نے کیا غربت کی خاتمے کے لیے کیے گئے کیا ملک کی معیشت کو ختم بہتر کرنے کے لیے کیے گئے صرف اور صرف کسی نے اپنے اقتدار کے لیے اس کو سیکیور کرنے کے لیے اور کئیوں نے آنے والے دنوں میں الیکشن اور اقتدار کے لیے اپنی سی وی بنا کر اداروں کے سامنے پیش کی اپنی کارکردگی اپنے اکابرین کی جمہوریت کی خاطر قربانی کو ملیا میٹ کر کے ان کی جمہوریت کے لیے قربانیوں کو نظر انداز کر کر ان قوتوں کا ساتھ دیا جنہوں نے اس ملک کی جمہوریت پر ہمیشہ شب خون مارا ان قوتوں کے الہ کار بنے جن کے ہاتھوں سے ان کے ناقص سیاسی اکابرین ان کے خاندان کے لوگوں کو شہید کیا گیا ان کو تو ان مظلوم عوام کی کوئی فکر نہیں یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ابا اجداد کی وہ قبریں بھی بھلا دیں وہ خون کے دبے جو کسی کے سینوں پہ تھے ان شہیدوں کے چاہے وہ کراچی کے کارساز ہمدر میں شہید ہوئے ہوں چاہے جمہوریت کے لیے کسی نے کی بحالی کے لیے کسی نے کوڑے کھائے ہوئے ہیں یا ان کے بزرگوں کی جو قربانیاں تھیں ان خون کے چھینٹے اب یہ کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ کسی ڈکٹیٹر کی وردی پہ ہیں بلکہ ان جمہوریت پسند اور ان اقتدار پسند کی چہروں اور دامن میں جو ہے واضح اور صاف نظر ارہے ۔

مولوی نے اس پارٹی نے ہمیشہ پارلیمانی جمہوری سیاست کو اپنایا ہم نے ہمیشہ اس ملک کے آئین میں رہتے ہوئے اپنے حق اور ہمارے صوبے میں جو ناانصافی ہیں ہوئی ہیں اس کا تذکرہ کرتے رہے یہاں کے ایوانوں میں ہم نے آکے بات کی یہاں پر کانسٹیٹیوشن ایونیوز پر ہم نے بات کی یہاں کی عدلیہ کے سامنے اپنی فریادیں سنائی یہاں پر پولیٹیکل لیڈرشپ کے سامنے ہم نے اپنی فریادی سنائی یہاں پہ عسکری قیادت کے سامنے ان ظلم و زیادتیوں کی ہم نے نشاندہی کی لیکن بدقسمتی سے ہماری وہ آئین نے لپٹی ہوئی اور جمہوری انداز میں باتیں بھی ان کو گوارا نہیں ہوئی اور ہمیں دیوار سے دھکیلنے کی کوشش کی اور جس کی وجہ سے اسی مقام پر تین ستمبر کو میں نے اسمبلی سے استعفی دیا اور پھر بھی ہم نے بات چیت کی ہے ،دروازے بند نہیں کیے ۔

جب کانسٹیٹیوشن امینڈمنٹ کی بات ہوئی ائی تو انہوں نے مجھ سے رابطے کی رابطے کے بدلے میں میں نے ان سے اس کانسٹیٹیوشن کا راستہ مانگا امینڈمنٹ کی جو ان کے پاس نہیں تھا جس کو اپ بدقسمتی بھی کہیں جس کو اپ ایک شرمناک عمل بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو امینڈمنٹ ہو لانا چاہتے ہیں اس کا ڈرف ان کے پاس نہیں جو اس کو اپنا اس کو امینڈمنٹ کو کا جو اپنے اپ کو خالق سمجھتے ہیں اور ہمارے جو سینٹرز تھے ان پر دبا ڈالا گیا ان کے بچوں کو اغوا کیا گیا،خاتون سینٹر کے شوہر کو اغوا کر دیا گیا اور اس کے بعد اس خاتون کو اپ سب کے کیمروں کے سامنے جب سینٹ کے فلور پر لایا گیا تو وہ بات بھی نہیں کر سکتی تھی اس کے انسو ٹپک رہے تھے اور اس فلور پر جو خواتین کی حقوق کی بات کرتے ہیں جو انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں وہ انکھیں نیچے کیے ہوئے کیا بلوچستان کے سینٹرز کی کوئی عزت نہیں جن کو اپ لوگوں نے بھیڑ بکریاں سمجھ کر اپ ان کو گھسیٹتے ہوئے ایوان میں لاتے ہیں ان سے ووٹ دلانے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں آئینی ترامیم 73 کے آئین کیا ذوالفقار علی بھٹو نے بہتر کہا اس لیے بنایا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کی مینڈمنٹ جو اس میں لائی جاتی ہے بلوچستان کے لوگوں کی خواتین کی چیخ و پکار و آنسو اس میں شامل ہوں کیا۔

اس لیے بہتر کہ ائین کو جو ہے وہ سینہ تان کر کہتے ہیں کہ جی 73 کا ائین ہم لائے ہیں اٹھویں ترامیم ہم لائے ہیں یہ کون سی ترامیم ہے اغوا برائے تعاون تو ہم نے سنا تھا اغوا ووٹ ہم سب نے اپنی انکھوں کے سامنے اپ نے بھی دیکھا ہوگا اج میں نے کوشش کی کیونکہ ہمارے سینٹروں سے کوئی رابطہ نہیں تھا ان کے موبائل بند تھے وہ گھر پہ موجود نہیں تھے ہم نے بھر پور کوشش کی کہ ان سے رابطے کی کوئی رابطہ نہیں ہو تو میں آج خود سینٹ میں زندگی میں پہلی مرتبہ سینٹ کی گیلری میں گیا ہوں کہ صرف جا کے ان سے دیکھوں ان کو کہوں کہ نہیں اپ فکر نہ کریں میں ہوں پہلے ہمیں گیلری سے نکال دیا گیا کہ میں مجھے دیکھتے ہوئے کہیں وہ اپنا فیصلہ نہ تبدیل کریں جب میں لابی میں بیٹھا جا کے کیونکہ جب ووٹ دینے کے بعد ان کو لابی میں آنا ہوتا ہے تو کہیں وہ مجھے دیکھ کر اپنا فیصلہ نہ بدل دیں بزور طاقت فورس کا استعمال کر کے ہمیں لابی سے نکال دیا گیا ان کا یہ عمل میں نام کر کے کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ اس شرمناک عمل میں برابر کے شریک ہیں چاہے اس میں میاں نواز شریف ہوں چاہے اس میں پرائم منسٹر شہباز شریف ہوں چاہے اس میں آصف زرداری ہوں یا بلاول بھٹو یا ان کی ٹیم ہو۔

اس شرمناک عمل میں اج پھر پیپلز پارٹی نے 1973 کی یاد پھر کی تعریف دولائی اج پھر پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے نے بے نظیر کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے نانا کے نقش قدم پر چل کر بلوچستان کے لوگوں کے نہ کہ صرف پیٹھ پر بلکہ سینے پر جو ہے اس آئینی ترامیم کے ذریعے جو ہے نا انہوں نے خنجر کو جہاں تک ہمارے مجھے معلوم ہے کہ اپ لوگ یہ سوال بھی کریں گے ان ہمارے ممبران کا سینیٹروں کا جو تعلق ہے انہوں نے ووٹ دیا ہے مجھے ان کی اس مجبوری کا اندازہ ہے مجھے یہ اندازہ ہے وہ کس کورس سے گزرے ہوں گے لیکن پارٹی کا فیصلہ ایک اصولی فیصلہ ہے انہوں نے پارٹی کی فیصلے کی خلاف ورزی کی چاہے وہ مجبوری کے تحت کیے چاہے زور کے ذریعے کیے پارٹی کے فیصلے کے خلاف ورزی پر ان کو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ کل تک سینٹ سے اپنے استعفیٰ میرے پاس جمع کرتے ہیں نہ تو پارٹی ان کے نہ تو پارٹی ان کے خلاف خود کاروائی کرنے کا جو ہے حق اور اختیار رکھتی ہے۔

یہ کون سی ترامیم ہے جس کو کہتے ہیں کہ جی ہم نے کیا لفظ استعمال کرتے ہیں کہ سب کونسلز کنسنسس بنائیں کونسلسز بنائیں یہی بندو کی نوک پہ اپ کنسنس ہے پہلا کرتے ہیں ایک فیڈریٹنگ یونٹ خیبر پختون خواہ کہ اگے سے زیادہ جو ہے نمائندگان اس میں موجود نہیں اپ کی ایک بڑی پولیٹیکل پارٹی جس کو اپ نے عبدالوسہ کوشش کی کہ اس کو دیوار سے لگائیں اس کا مینڈیٹ چراغ کی بھی اپ اس سے اس کا مینڈیٹ نہیں چھین سکے وہ بھی اس میں شامل نہیں اپوزیشن میں وہ جماعتیں بھی اس میں شامل نہیں پھر بھی اپ کہتے ہیں کہ یہ باہمی رضا اور کنسنس سے یہ اپ لوگ نے اس آئینی ترامیم کو لائیں اور وہ پاس یہ جھوٹ اور جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں یہ لوگوں کی انکھوں میں دور جھونکنے کے برابر ہے تو اپ تمام صافی حضرات کا شکریہ کہ اپ نے ہمیں وقت دیا اگر کوئی سوال ہے جو ترامیم ان لوگوں نے آج پیش کیے ہیں ان سیاسی پارٹیوں کا بوری بسترہ انہی ترامیم سے گول ہوگا۔

Share This Article
Leave a Comment