غیر جمہوری طریقے سے منتخب اراکین نے سینیٹ و قومی اسمبلی سے 26ویں آئینی ترمیم منظورکرلی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت و چرائے گئے عوامی ووٹوں سے غیر جمہوری طریقے سے منتخب اراکین نے سینیٹ و قومی اسمبلی سے 26ویں آئینی ترمیم منظورکرلی ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے 26ویں آئینی ترمیمی بل کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کے بعد ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے بھی اس کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم پیش کرنے کی تحریک پیش کی، تحریک کی منظوری کے لیے 225 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیے جبکہ 12 ارکان نے اس کی مخالفت کی ہے۔

26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد آج ایوان صدر میں تقریب ہوگی جس میں صدر مملکت اس ترمیم کو آئین کا حصہ بنانے پر سمری دستخط کریں گے جس کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

اس کے بعد ترمیم کی شق وار منظوری دی گئی، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 4 آزاد ارکین نے آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دیا، عثمان علی، مبارک زیب خان، ظہورقریشی، اورنگزیب کھچی اور مسلم لیگ (ق) کے چوہدری الیاس نے ترامیم کےحق میں ووٹ دیا۔

حکمران اتحاد کے 215 میں سے 213 ارکان نے ووٹ کیا، عادل بازئی کے علاوہ حکمران اتحاد کے تمام ایم این ایز نے ووٹ دیا، اجلاس کی صدارت کے باعث سپیکر قومی اسمبلی نے اپنا ووٹ نہیں دیا، جے یو آئی (ف) کے 8 ارکان نے ووٹ دیا۔

بعد ازاں سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 225 ووٹ دیے گئے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر قوم کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’آج کا دن ملکی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے پاکستان کے منتخب نمائندوں نے پاکستان کے آئین میں 26 آئینی ترمیم کا بل منظور کیا ہے۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ملک کے منتخب نمائندوں نے ملکر آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے تمام اراکین خراج تحسین کے مستحق ہیں، جن کی مسلسل محنت اور جدو جہد کے ذریعے 26 آئینی ترامیم کی منظوری کا حصول ممکن ہوا۔‘

سردار ایاز صادق نے کہا کہ ’دونوں ایوانوں سے 26 ویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری پارلیمنٹ کی بڑی کامیابی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے 26 آئینی ترمیم کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘

Share This Article
Leave a Comment