بی این پی سنیٹرز کا ووٹ دینے کا اعلان،اختر مینگل کو سینیٹ گیلری سے نکال دیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کی تمام 22 شقوں کی منظوری دے دی ہے۔

اس دوران سینیٹ اجلاس میں شق وار منظوری کے لیے ووٹنگ ہوئی۔

اس سے قبل بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سینیٹرز نسیمہ احسان اور قاسم رنجھوایوان میں پہنچے تھے۔

جبکہ بی این پی مینگل کے مرکزی ترجمان اور سربراہ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے حق میں ان کے سینیٹرز کو دبائو کا سامنا ہے اور پاکستانی فوج قاسم رونجھو اور نسیمہ احسان سمیت ان کے بچوں کوزبردستی گمشدہ کیا ہواہے۔

قاسم رونجھو سے جب میڈیا نمائندوں نے سوال کیا کہ کیا آپ کو اغوا کیا گیا؟ اس پر قاسم رونجھو کا کہنا تھاکہ میں اپنے گھر سے آرہا ہوں اور میں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دوں گا۔

اسی طرح نسیمہ احسان نے بھی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اختر مینگل کے مطابق نسیمہ احسان کو شوہر اور بچے سمیت اغوا کیاگیا تاکہ آئینی ترمیم کیلئے ووٹنگ کے نمبرز پوری کئے جاسکیں اسی طرح قاسم رونجھو اور اس کے بیٹے کو بھی لاپتہ کیا گیا تاکہ ان کے ووٹ آئینی ترمیم کے حق میں کاسٹ کئے جاسکیں۔

اختر مینگل نے کہا کہ بندوق کے زور پر ووٹ ڈالناجی ایچ کیو کی جمہوری روایت کا حصہ ہے۔

سینیٹرز پر ریاستی دبائو کے پیش نظرپارٹی سربراہ گذشتہ روز بیرون ملک سے پاکستان پہنچے تھے۔

بی این پی مینگل نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ آئینی ترامیم کا حصہ نہیںبنے گا۔

آج سینیٹ اجلاس کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ اختر مینگل کو سینیٹ گیلری سے نکال دیا گیا۔

اس موقع پر اخترمینگل نے جیونیوز سے گفتگو میں کہا کہ مجھے خاتون سکیورٹی اہلکار نے گیلری سے نکالا۔

اختر مینگل نے کہا کہ میرا اپنی پارٹی کے اغوا شدہ ارکان سے آمنا سامنا ہورہا تھا۔

اختر مینگل نے کہا کہ میں نے سب کی چوری پکڑی تو حکومتی وزرا کے پسینے نکل گئے۔

Share This Article
Leave a Comment