مجوزہ آئینی ترمیم کے معاملے پر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل نے فوری طور پر پاکستان واپس پہنچنے کا فیصلہ کرلیا۔
قائم مقام صدر بلوچستان نیشنل پارٹی ساجد ترین نے کہا ہے کہ اختر مینگل کل پاکستان پہنچیں گے۔
گزشتہ روز ساجد ترین اور اختر مینگل نے کہا تھا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر ان کی جماعت کے اراکین اسمبلی پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
رہنما بی این پی ساجد ترین واخترمینگل نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں اختر مینگل کے فلیٹ پر اسلام آباد پولیس نے چھاپہ بھی مارا ہے۔
ساجد ترین نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے ان کی جماعت کو ڈرایا نہیں جاسکتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی پیکج کی ووٹنگ پر ان کی پارٹی کے سینیٹرز دباؤ میں نہیں آئیں گے۔
دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی اختر مینگل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے جمہوریت کا چارٹر تیار کیا تھا۔ اب نواز شریف اور آصف زرداری نے جمہوریت کا گڑھا کھودا ہے جس میں چارٹر آف ڈیموکریسی کو دفن کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بےشک جمہوریت بہترین انتقام ہے اور بلاشبہ ووٹ کو بہت عزت دو آپ لوگوں نے کبھی کوئی ایسا کام تسلیم کیا ہے جو آپ نے کیا ہو، کہ آپ یہ بھی تسلیم کریں گے؟ آپ نے کبھی اعتراف نہیں کیا کہ آپ نے بلوچستان سے بچوں کو اٹھایا ہے، تو پھر اس کے سامنے یہ کیا ہے؟
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ کل ان کے بیٹے کو اغوا کر لیا گیا۔ ان کی رہائش گاہ لاجز C308 کو ایجنسیوں کے اہلکاروں نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ آج صبح 6 بجے ان کے شوہر سید احسان شاہ، جو کہ سابق صوبائی وزیر اور سابق سینیٹر ہیں، کو لاجز سے لے جایا گیا۔ ان کے بچے جو لاجز میں موجود ہیں، وہیں محصور ہیں۔ انہیں پھر زبردستی سینیٹ جانے اور وزیر اعظم کی طرف سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اگر کسی کو یقین نہیں آتا تو براہ کرم لاجز C308 کے باہر جا کر خود دیکھ لیں۔