کوئٹہ : بلوچستان حکومت کی نجکاری پالیسی کیخلاف احتجاجی ریلی ومظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیر اہتمام بلوچستان میں سرکاری ہسپتالوں کی مجوزہ نجکاری ، کنٹریکٹ پر بھرتیاں اور سہولیات کے فقدان کے خلاف ڈاکٹرز اور طبی عملے نے سول سنڈیمن ہسپتال سے ریلی نکالی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔

ریلی کے شرکاءنے کہا کہ اگر حکومت نے 10 روز میں نجکاری کے عمل کو روکنے کیلئے پالیسی واضح نہیں کی تو ہسپتالوں کو بند کرنے سے گریز نہیں کریں گے اور احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔

ریلی کی قیادت گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ، ڈاکٹر فوزیہ، سلام زہری کررہے تھے۔

ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ دس روز میں نج کاری کا عمل روکنے کے لئے واضع پالیسی سامنے نہ آئی تو ہسپتال بند کرنے سے بھی گریز نہیں کرینگے کیونکہ اس عمل سے عام آدمی کے لئے علاج مزید مشکل ہوجائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں اگر ہڑتال کی کال ہوئی تو علاج معالجے کی محدود سہولیات بھی ناپید ہو جائےں گی اسلئے طبی عملے کی ہڑتال اور بائیکاٹ کا متبادل سوچنا ناگریز ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں 2 دن پہلے مزاکرات کیے ہسپتالوں کو نجکاری سے متعلق مزید وقت مانگا گیا لیکن گزشتہ روز اخبار میں پشین ہسپتال میں ملازمت کیلئے کنٹریکٹ بیس پر اشتہارات مشتہر ہوئے ہسپتالوں کی کسی صورت نجکاری ہونے نہیں دینگے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کو 10دن کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ ہسپتالوں کو نجکاری سے متعلق فیصلہ واپس لے۔اگر مطالبات منظور نہیں ہوئے تو دس دن کے بعد شدید احتجاج کرینگے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور سہولیات کا فقدان ہے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری تسلیم نہیں کریں گے۔ احتجاج کو وسعت دی جائے گی ۔

مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

Share This Article
Leave a Comment