وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اورانسانی حقوق کے سرگرم کارکن سمی دین بلوچ کو پاکستان کے کراچی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے روک دیا گیا ہے ۔
سمی دین بلوچ عرب ملک عمان جارہے تھے ۔
اس سلسلے میں سمی دین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایئر پورٹ کے امیگریشن آفس اور ایک لیٹرکے تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے مسقط، عمان جانے کی کوشش کے دوران کراچی ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر پر روک دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت نے میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا ہے۔ مجھے چار گھنٹے تک سیکورٹی والے کمرے میں انتظار میں رکھا گیا ہے اور مجھے حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
سمی دین نے مزید لکھا کہ میرا پاسپورٹ مجھے واپس نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی مجھے کوئی ثبوت دکھایا جا رہا ہے کہ مجھے کس بنیاد پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
واضع رہے کہ پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ بشمول بلوچستان و پاکستان کی حکومتوں نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں ،ماوارئے عدالت قتل ،انسانی حقوق خلاف ورزیوں کے حوالے سے سرگرم و حکومتی ناقدین کئی سیاسی و سماجی افرادکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیئے ہیں اور فوج کو یہ قانونی اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ کسی کو بھی اٹھا کر لاپتہ رکھ سکتا ہے ۔