پاکستان جبری گمشدگیوں متعلق بین الاقوامی کنویشن پر دستخط کرے، وی بی ایم پی کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کیخلاف سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئر مین و وائس چیئر مین نصر اللہ بلوچ اور ماما قدیر بلوچ نے جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کی مناسبت سے کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے قائم وی بی ایم پی کے کیمپ میں ایک پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر لاپتہ آصف بلوچ اور رشید بلوچ کی ہمشیرہ سائرہ بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد لواحقین بھی موجود تھیں۔

پریس کانفرنس میں لواحقین نے جبری گمشدگیوں کو قانوناً جرم قرار دینے سمیت پاکستان سے جبری گمشدگیوں متعلق بین الاقوامی کنویشن پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

نصر اللہ بلوچ اور ماما قدیر بلوچ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 30 اگست کو گمشدہ افراد یعنی ( جبری خفیہ حراست میں لیئے جانے والے افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے ) جبری گمشدگی ایک ماورائے آئین اقدام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ ایک انسانیت سوز ظلم ہے جو صرف لاپتہ فرد واحد کو نہیں بلکہ اس کے اہل خانہ اور معاشرے کو متاثر کرتا ہے آج کے دن پریس کانفرنس کرنے کا مقصد اس ماورائے آئین اقدام کی شدت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے کرب و اذیت کو اجاگر کرنا ہے۔

انہوںنے کہا کہ 2011 میں اقوام متحدہ اپنی قرار داد 65/209 کے زریعے اس دن کو عالمی سطح پر منانے کی منظوری دی تھی چونکہ ریاستی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والا شخص قانونی تحفظ سے محروم ہوجاتا ہے اس کی شناخت تک چھین کی جاتی ہے اور حکومتی سطح پر جبری لاپتہ شخص کے اہلخانہ کو معلومات فراہم نہیں کیاجاتا جسکی وجہ سے لاپتہ شخص کے اہلخانہ سمیت انکے دیگر لواحقین شدید زہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس لیے اقوام متحدہ کے دو بین الاقوامی کنونشنز نے ریاستی اداروں کے اس ماورائے آئین اقدام کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے اور اس عمل کو انسانی حقوق کی خلاف تمام خلاف ورزیوں میں سب سے بد ترین عمل سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں نے ڈکٹیٹر مشرف کے دور حکومت میں ملکی سلامتی کے نام پر بلوچستان سے بلوچ سیاسی کارکنوں، بلوچ دانشواروں اور بلوچ طلباء سمیت دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کرنے کے سلسلے کو شروع کیا جو تسلسل کے ساتھ تاحال جاری ہے۔2000 میں علی اصغر کو پہلی مرتبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے جبری لاپتہ کیاگیا اور 14 دن کے بعد رہا کیاگیا علی اصغر نے اپنے رہائی کے بعد کہا کہ ان سے بلوچ سیاست اور بلوچستان کے حالات کے حوالے سے پوچھ کچ کی گئی دوسری مرتبہ علی اصغر کو 18 اکتوبر 2001 میں اسکے ایک دوست محمد اقبال کے ساتھ جبری لاپتہ کردیا 24 دن کے بعد محمد اقبال کو رہا کردیا لیکن علی اصغر تاحال لاپتہ ہے اسی طرح ڈاکر دین محمد اور زاکر مجید سمیت ہزاروں لوگ جبری گمشدگی کے شکار ہوئے ہیں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کئی سالوں سے انصاف کے حصول کے لیے عدلیہ سمیت مختلف حکومتوں کے دروازوں پر مسلسل دستک دیتے آرہے ہیں آج تک انہیں ملکی قوانین تحت انصاف فراہم کیاگیا اور نہی حکومتی سطح پر انہیں یہ معلومات فراہم کیاجارہا ہے کہ انکے لاپتہ پیاروں کو کس جرم کے تحت حراست میں لیاگیا ہے وہ کس ادارے کے حراست میں ہے آیا وہ زندہ بھی ہے کہ نہیں بلکہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں پھنکی جارہی ہے اور انہیں ریاستی ادارے فیک انکاونٹرز میں قتل کرکے مقابلے کا نام دے رہے ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان سے ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندان شدید زہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہیں ۔

انہوںنے مزید کہا کہ پاکستان میں جو بھی حکومت برسر اقتدار آتی ہے تو وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے اور جبری گمشدگیوں کے مسلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرانے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کا اعلان کرتی ہے لیکن بعد میں وہ لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنی بےبسی کا اظہار کرتی ہے کیونکہ لاپتہ افراد کے مسلے میں ملک کے طاقتور ادارے ملوث ہے یہی وجہ ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کی طرف نہیں جارہا ہے بلکہ ہر آنے والے دنوں میں جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں تیزی آرہی ہے اور لاپتہ افراد کو دوران حراست قتل کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں پھکنے کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ روز خضدار سے اسے چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہے جن کو رواں سال جبری لاپتہ کیا گیاتھا اس کے علاوہ ایران اور افغانستان میں مقیم بلوچ مہاجرین کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا جارہا ہے اور بعض بلوچ مہاجرین کو وہاں سے جبری لاپتہ کرکے انہیں حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کی شکایت بھی موصول ہوا ہے رواں سال افغانستان سے محمدد علی لانگو اور ایران سے استاد واحد کمبر کو جبری لاپتہ کیاگیا ہے ۔

نصر اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ آج 30 آگست کو جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کی مناسبت سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز حکومت پاکستان لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے اور جبری گمشدگیوں کے روک تھام کے حوالے سے مطالبہ کرتی ہے۔

1۔حکومت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنائے۔
2۔جن لاپتہ افراد پر الزام ہے انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اگر ان پر جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں عدالت کے زریعے سزا دی جائے۔
3۔ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارنے کے سلسلے کو بند کیا جائے۔
4۔جو لاپتہ افراد اس دنیا میں نہیں ہے انکے خاندان کو معلومات فراہم کیا جائے۔
5۔جبری گمشدگیوں کے مسلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرانے کے حوالے سے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے جائے۔
6۔جبری گمشدگیوں کو قانوناً جرم قرار دیا جائے اس ماورائے قانون اقدام میں ملوث اداروں کو ملکی قوانین کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انکے اخیتیارات کو محدود کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔
7۔جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن کی آزادانہ طور پر تشکیل نو کی جائے جو محض تحقیقات نہیں بلکہ حبری گمشدگیوں میں ملوث ملکی اداروں کے خلاف قانونی کاروئی کرنے کے ساتھ انصاف فراہم کرنے کے بھی قابل ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آخر میں یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بنائے گئے بین الاقوامی کنویشن پر دستخط کرے۔

Share This Article
Leave a Comment